بھارتی عدالت نے سیف علی خان کو 15 ہزار کروڑ کی وراثتی جائیداد سے کیوں محروم کیا؟ جانیے
سیف علی خان کی قانونی جنگ
مدھیہ پردیش (ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی وڈ اداکار سیف علی خان کو اپنے آبا اجداد کی جائیداد پر قانونی جنگ میں سنگین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: آج سے 2 جنوری تک پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
ہائی کورٹ کا فیصلہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حکومت کے دشمنی جائیداد کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نیپال کے خلاف انگلینڈ کی بیٹنگ جاری
جائیداد کی مالیت
اس فیصلے کے تحت بھوپال میں واقع 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو دشمنی جائیداد قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں صلح معاہدے پر دستخط، دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں: ٹرمپ
پہلا مقدمہ اور نتیجہ
عدالت نے 2000 میں ہونے والے مقدمے کے فیصلے کو الٹ دیا جس میں سیف علی خان، ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور اور بہنوں سوہا اور سبا علی خان کو اس جائیداد کا جائز وارث قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نجی نوعیت کے سوال پر مریم نفیس کا سوشل میڈیا صارف کو کرارا جواب
چیلنج کا پس منظر
اس فیصلے کو نواب حامد اللہ خان کے دیگر ورثاء نے چیلنج کیا، جن کا مؤقف تھا کہ وراثت مسلم ذاتی قانون کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف فتح پر گورنر ہاؤس سندھ میں جشن، رافیل طیارے کے ماڈل کو آگ بھی لگائی گئی
تاریخی پس منظر
اس تنازعہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیف علی خان کی پردادی عابدہ سلطان، جو نواب حامد اللہ خان کی بیٹی تھیں، نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا اور بھارتی شہریت کو ترک کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زیادہ تر شہروں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کا امکان، کچھ جگہوں پر ہلکی بارش کی توقع
دشمنی جائیداد ایکٹ
اس اقدام کی بنا پر دشمنی جائیداد ایکٹ (1958) کے تحت ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد وہ جائیدادیں ضبط کرنا ہے جو دشمن ممالک یعنی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے زیر ملکیت ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے، پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 35اوورز میں 181رنز کا ہدف دے دیا
نگراں ادارے کا اقدام
2014 میں دشمنی جائیداد کے نگراں ادارے نے بھوپال کے شاہی خاندان کی جائیداد کو رسمی طور پر دشمنی جائیداد کے طور پر درجہ بند کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیر صدارت سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس،فیلڈ مارشل اور اعلیٰ و سول حکام کی شرکت ، افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف کارروائی اور اہم امور پر بریفنگ
سیف علی خان کی اپیل
سیف علی خان نے اس فیصلے کے خلاف 2015 میں عارضی اسٹے حاصل کیا تھا، تاہم 13 دسمبر 2024 کو ہائی کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کر دی اور اسٹے ختم کر دیا۔
حکومت کا راستہ ہموار
عدالت نے سیف علی خان اور ان کے خاندان کو 30 دن کی مدت دی تھی تاکہ وہ اپیل کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں، لیکن کوئی اپیل داخل نہیں کی گئی، جس سے بھارتی حکومت کو جائیداد پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔








