بھارتی عدالت نے سیف علی خان کو 15 ہزار کروڑ کی وراثتی جائیداد سے کیوں محروم کیا؟ جانیے
سیف علی خان کی قانونی جنگ
مدھیہ پردیش (ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی وڈ اداکار سیف علی خان کو اپنے آبا اجداد کی جائیداد پر قانونی جنگ میں سنگین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے، امریکی صدر کا سخت ردعمل
ہائی کورٹ کا فیصلہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حکومت کے دشمنی جائیداد کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیا کو منفی مؤقف کو بڑھاوا نہیں دینا چاہیے تاکہ سفارت خانے پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی پاسبانی کا فریضہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں
جائیداد کی مالیت
اس فیصلے کے تحت بھوپال میں واقع 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو دشمنی جائیداد قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کراچی بیکری پر حملہ، لیکن کراچی میں بمبے بیکری کے کیا حالات ہیں؟ پاکستان اور بھارت کا فرق پوری دنیا نے دیکھ لیا۔
پہلا مقدمہ اور نتیجہ
عدالت نے 2000 میں ہونے والے مقدمے کے فیصلے کو الٹ دیا جس میں سیف علی خان، ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور اور بہنوں سوہا اور سبا علی خان کو اس جائیداد کا جائز وارث قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر کے دوسرے ہفتے میں “بریک تھرو” کا امکان ہے
چیلنج کا پس منظر
اس فیصلے کو نواب حامد اللہ خان کے دیگر ورثاء نے چیلنج کیا، جن کا مؤقف تھا کہ وراثت مسلم ذاتی قانون کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین اور عاطف خان کی پارٹی واٹس گروپ میں تلخ کلامی
تاریخی پس منظر
اس تنازعہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیف علی خان کی پردادی عابدہ سلطان، جو نواب حامد اللہ خان کی بیٹی تھیں، نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا اور بھارتی شہریت کو ترک کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اللہ نے ملاملٹری الائنس فطری طور پر بنایا ہے، طاہر محمود اشرفی کا ناقدین کو جواب
دشمنی جائیداد ایکٹ
اس اقدام کی بنا پر دشمنی جائیداد ایکٹ (1958) کے تحت ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد وہ جائیدادیں ضبط کرنا ہے جو دشمن ممالک یعنی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے زیر ملکیت ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طور پر کھولا گیا۔
نگراں ادارے کا اقدام
2014 میں دشمنی جائیداد کے نگراں ادارے نے بھوپال کے شاہی خاندان کی جائیداد کو رسمی طور پر دشمنی جائیداد کے طور پر درجہ بند کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے دشمن کی عددی برتری کو جذبے، مہارت اور یقین کامل سے شکست دی: وزیر داخلہ
سیف علی خان کی اپیل
سیف علی خان نے اس فیصلے کے خلاف 2015 میں عارضی اسٹے حاصل کیا تھا، تاہم 13 دسمبر 2024 کو ہائی کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کر دی اور اسٹے ختم کر دیا۔
حکومت کا راستہ ہموار
عدالت نے سیف علی خان اور ان کے خاندان کو 30 دن کی مدت دی تھی تاکہ وہ اپیل کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں، لیکن کوئی اپیل داخل نہیں کی گئی، جس سے بھارتی حکومت کو جائیداد پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔








