ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا یمن میں بڑا فضائی حملہ
اسرائیل کے حملے
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے ایران-اسرائیل جنگ بندی کے بعد یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف اپنے پہلے حملے کیے ہیں، جن میں اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک حوثی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1995 میں پارٹی لیس انتخابات میں امیدواروں نے عوام دوست کا لیبل استعمال کیا تھا، کیا آپ نے پارٹی کی حیثیت کے بغیر کوئی ایسی اصطلاح استعمال کی؟ جسٹس حسن اظہر رضوی
امریکی میڈیا کی رپورٹ
امریکی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں یمن کی بحیرہ احمر کے کنارے واقع اہم بندرگاہوں اور ایک بجلی گھر کو ہدف بنایا گیا۔ اسرائیل کی فوج (IDF) کے مطابق یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب حوثی شدت پسندوں نے جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف کم از کم تین بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے ایک کو کامیابی کے ساتھ روک لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا بجلی کی قیمتوں میں 48 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا
حوثی مقامات کا نشانہ
اسرائیل نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ، رش عیسا، صلیف بندرگاہوں اور راس کاناتب پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے گلیکسی لیڈر نامی ایک کارگو جہاز پر بھی حملہ کیا، جسے حوثیوں نے نومبر 2023 میں قبضے میں لے لیا تھا۔ اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے اس جہاز پر ریڈار سسٹم نصب کیا تھا، جسے وہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہازوں کو ٹریک کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت دینے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں توسیع
انخلاء کی وارننگ
صیہونی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویچائی ادری نے حملوں سے قبل مقامی وقت کے مطابق پورٹس اور بجلی گھر کے لیے انخلاء کی وارننگ جاری کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ
اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان
اسرائیلی وزیر دفاع اسرآئیل کٹز نے ان حملوں کو آپریشن بلیک فلیگ کا حصہ قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں گے، اور اگر وہ اسرائیل کی طرف ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنا جاری رکھتے ہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کا 30 نومبر کو ضلعی سطح پر یوم تاسیس منانے کا اعلان
حوثیوں کا ردعمل
حوثی فوج نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی لیکن کہا کہ یمنی فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کیا اور مقامی طور پر تیار کردہ سطح سے ہوا تک میزائلوں کے ذریعے بھرپور جواب دیا۔ اس حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں آئی۔ حوثیوں کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرحا نے کہا کہ یمنی بندرگاہوں، بجلی گھروں اور دیگر شہری سہولتوں کو نشانہ بنانا شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اور اس کا کسی فوجی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ٹریفک مسائل کا حل ، ہیوی گاڑیوں کی رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر، ڈرائیورز کے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار
بینجمن نیتن یاہو کی واشنگٹن روانگی
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو واشنگٹن روانہ ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی طرف سے مسلسل میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔








