دھندہ اور بندہ۔۔۔

بے حسی کا جشن

تحریر: خالد غورغشتی

نا جانے ہم کب تک اپنی بے حسی کا جشن مناتے رہیں گے؟ کب تک اپنے زوال کو سینے سے لگاتے رہیں گے؟ رشوت، دھوکا دہی، ملاوٹ، اور لوٹ مار اب ہمارا وطیرہ بن چکے ہیں۔ ہم ہر وقت حکمرانوں، اداروں اور نظام کو برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اپنی ذات کا محاسبہ کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اولمپکس میڈل جیتنے والے حسین شاہ کے پلاٹ پر کراچی میں قبضہ ہو گیا

بچوں کی بے پروائی

ہماری گلیوں میں سات آٹھ سال کے بچے موٹر سائیکل دوڑاتے ہیں، حادثات میں زخمی ہوتے ہیں یا جان گنواتے ہیں، لیکن والدین پھر بھی فخر سے کہتے ہیں ’’بڑا ہو گیا ہے، گاڑی چلا لیتا ہے!‘‘ یہ بے پروائی دراصل قانون شکنی کی تربیت ہے، جو ہم اپنے بچوں کو بچپن سے ہی دینا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹر ایمل ولی خان پر نشہ کرنے کا الزام عائد کردیا

خیرات کی حقیقت

کسی نے دو ہزار دے دیے، کوئی کچھ صدقے میں دے گیا، اور ہم اس کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خیرات دکھاوا نہیں، انسانیت کا خالص جذبہ ہے — اور یہ تبھی معتبر اور مقبول ہے جب وہ ریاکاری سے پاک ہو۔

یہ بھی پڑھیں: لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستانیوں کا احتجاج، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم

معاشرتی خود انحصاری

آج ہر گھر میں بجلی اور گیس کے بلوں کی دہائی ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہمارے اردگرد ہر ماہ کروڑوں کی بھیک اکٹھی کی جاتی ہے، بھیک مانگنے کو ایک باقاعدہ صنعت میں بدل دیا گیا ہے، جس سے معاشرہ خود انحصاری کے بجائے مکمل طور پر ’’دست نگر ‘‘ بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پولیس نے ماحولیاتی انصاف مارچ کو پی ٹی آئی مارچ سمجھ کر نفری طلب کر لی

تبدیلی کی ضرورت

اگر واقعی قوم کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خیرات کے نام پر جمع ہونے والی دولت کو ہنر، تعلیم، اور روزگار میں بدلنا ہوگا۔ ہر بے روزگار نوجوان اگر ایک ہنر سیکھ لے تو ایک پورے گھرانے کا معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سموگ کی شدت میں اضافہ، سکولوں کے اوقات کار تبدیل، خلاف ورزی پر جرمانوں کا فیصلہ

حلال رزق کی اہمیت

یاد رکھیے!
مچھلی کھلانا وقتی حل ہے، مگر مچھلی پکڑنا سکھانا مستقل تبدیلی کی بنیاد ہے۔
دوسروں کے پیسوں سے خیرات بانٹنا آسان ہے، اپنے خون پسینے کی کمائی سے کسی مجبور کی مدد کرنا اصل انسانیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ پر امریکی سیاستدان برس پڑے، صدر کو نااہل قرار دے دیا

محنت کا انعام

جو شخص 800 روپے کی دیہاڑی میں دن بھر مزدوری کرتا ہے، کڑی دھوپ میں ریڑھی لگاتا ہے، یا فیکٹریوں میں بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے، وہ جب اپنی کمائی سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کی نیکی میں خلوص، قربانی اور نیت کی پاکیزگی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 5منزلہ عمارت گر گئی

معنوی تربیت

جب تک ہم رزق حلال کی روح کو نہیں سمجھیں گے، ہماری نسلیں بے برکتی، اضطراب، اور اخلاقی دیوالہ پن کا شکار رہیں گی۔ بھیک مانگ کر ادارے چلانے والے یہ نہیں جانتے کہ عزت صرف کمانے میں ہے، مانگنے میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گاڑی نہ روکنے پر ڈکیتوں نے ایک اور زندگی چھین لی

نبی کی تعلیمات

ہمارے پیارے نبی پاک ﷺنے فرمایا: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ جو ہاتھ سے کماتا ہے، وہ اللہ کا محبوب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طلحہ انجم پرکانسرٹ کے دوران بوتل پھینکنے پر ہانیہ عامر برس پڑیں

محنت کی راہ

تو پھر ہم کیوں ایسے کاموں میں اُلجھے ہوئے ہیں جو نہ محبوبیت دلاتے ہیں، نہ خود داری؟

عہد کیجئے!

آئیے، ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ محنت کریں گے، دوسروں کو ہنر سکھائیں گے،

رزق حلال کو فروغ دیں گے، بھیک نہیں خودداری کا راستہ اپنائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...