دھندہ اور بندہ۔۔۔
بے حسی کا جشن
تحریر: خالد غورغشتی
نا جانے ہم کب تک اپنی بے حسی کا جشن مناتے رہیں گے؟ کب تک اپنے زوال کو سینے سے لگاتے رہیں گے؟ رشوت، دھوکا دہی، ملاوٹ، اور لوٹ مار اب ہمارا وطیرہ بن چکے ہیں۔ ہم ہر وقت حکمرانوں، اداروں اور نظام کو برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اپنی ذات کا محاسبہ کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات کی تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامی، اعلیٰ سطح کی نااہلی، زمین پر قبضوں کا انکشاف
بچوں کی بے پروائی
ہماری گلیوں میں سات آٹھ سال کے بچے موٹر سائیکل دوڑاتے ہیں، حادثات میں زخمی ہوتے ہیں یا جان گنواتے ہیں، لیکن والدین پھر بھی فخر سے کہتے ہیں ’’بڑا ہو گیا ہے، گاڑی چلا لیتا ہے!‘‘ یہ بے پروائی دراصل قانون شکنی کی تربیت ہے، جو ہم اپنے بچوں کو بچپن سے ہی دینا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 77 مخصوص نشستیں بحال، کس جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی ۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے
خیرات کی حقیقت
کسی نے دو ہزار دے دیے، کوئی کچھ صدقے میں دے گیا، اور ہم اس کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خیرات دکھاوا نہیں، انسانیت کا خالص جذبہ ہے — اور یہ تبھی معتبر اور مقبول ہے جب وہ ریاکاری سے پاک ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا:ڈونلڈ ٹرمپ
معاشرتی خود انحصاری
آج ہر گھر میں بجلی اور گیس کے بلوں کی دہائی ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہمارے اردگرد ہر ماہ کروڑوں کی بھیک اکٹھی کی جاتی ہے، بھیک مانگنے کو ایک باقاعدہ صنعت میں بدل دیا گیا ہے، جس سے معاشرہ خود انحصاری کے بجائے مکمل طور پر ’’دست نگر ‘‘ بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں یونیورسٹی چانسلر کی تعیناتی کے اختیارات وزیراعلیٰ کے سپرد کر دیئے گئے
تبدیلی کی ضرورت
اگر واقعی قوم کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خیرات کے نام پر جمع ہونے والی دولت کو ہنر، تعلیم، اور روزگار میں بدلنا ہوگا۔ ہر بے روزگار نوجوان اگر ایک ہنر سیکھ لے تو ایک پورے گھرانے کا معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہہ ملکی انڈر 19 ون ڈے سیریز، پاکستان، زمبابوے میچ بارش کے سبب ختم کردیا گیا
حلال رزق کی اہمیت
یاد رکھیے!
مچھلی کھلانا وقتی حل ہے، مگر مچھلی پکڑنا سکھانا مستقل تبدیلی کی بنیاد ہے۔
دوسروں کے پیسوں سے خیرات بانٹنا آسان ہے، اپنے خون پسینے کی کمائی سے کسی مجبور کی مدد کرنا اصل انسانیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دینی مدارس کی رجسٹریشن کے تنازع پر مولانا فضل الرحمان اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے نالاں ہیں
محنت کا انعام
جو شخص 800 روپے کی دیہاڑی میں دن بھر مزدوری کرتا ہے، کڑی دھوپ میں ریڑھی لگاتا ہے، یا فیکٹریوں میں بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے، وہ جب اپنی کمائی سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کی نیکی میں خلوص، قربانی اور نیت کی پاکیزگی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم عمران خان نے 3 رہنماؤں کو فوکل پرسنز مقرر کردیا
معنوی تربیت
جب تک ہم رزق حلال کی روح کو نہیں سمجھیں گے، ہماری نسلیں بے برکتی، اضطراب، اور اخلاقی دیوالہ پن کا شکار رہیں گی۔ بھیک مانگ کر ادارے چلانے والے یہ نہیں جانتے کہ عزت صرف کمانے میں ہے، مانگنے میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ میں نیا سنگِ میل عبور کر لیا
نبی کی تعلیمات
ہمارے پیارے نبی پاک ﷺنے فرمایا: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ جو ہاتھ سے کماتا ہے، وہ اللہ کا محبوب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلم کے دوران ڈائریکٹر نے ہراساں کیا اور بیڈ تک آگیا، فرح خان کا کئی سال بعد انکشاف
محنت کی راہ
تو پھر ہم کیوں ایسے کاموں میں اُلجھے ہوئے ہیں جو نہ محبوبیت دلاتے ہیں، نہ خود داری؟
عہد کیجئے!
آئیے، ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ محنت کریں گے، دوسروں کو ہنر سکھائیں گے،
رزق حلال کو فروغ دیں گے، بھیک نہیں خودداری کا راستہ اپنائیں گے۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








