اسرائیل بے لگام، لبنان کے شمالی، مشرقی اور جنوبی علاقوں پر فضائی حملے
اسرائیل کے فضائی حملے
بیروت (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے غزہ اور یمن کے بعد دوبارہ لبنان کے شمال، مشرق اور جنوب کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو اب عالمی سطح پر ایک شکست خوردہ شخص دکھائی دیتے ہیں
حملوں کی تفصیل
نجی ٹی وی دنیا نیوز نے لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایاکہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مشرقی لبنان میں بعلبک کے مغرب میں واقع بودای کے نزدیک فلاوی کے پہاڑی علاقے پر بمباری کی، تین حملے بودای کے پہاڑی علاقوں پر کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کیلئے انتہائی آسان ہدف دیدیا
مزید اہداف
خبر ایجنسی نے مزید بتایا کہ شمالی لبنان کے ضلع عکار میں کفرملکی کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان حملوں کے نتائج کے بارے میں کوئی ابتدائی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے التفاح میں بھی حملے کیے، جہاں واقع تین دیہات عین قانا، صربا اور حومین الفوقا کے درمیانی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا
جنوبی لبنان میں صورتحال
جنوبی لبنان کے ضلع صیدا میں وادی الزراریہ پر شدید فضائی حملہ کیا گیا، جب کہ ضلع صور میں ارزی اور برج رحال کے نواحی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے ضلع صور میں قاسمیہ کے علاقے میں واقع ردی اور المطريہ کے درمیانی علاقے، دریائے لیتانی کے کنارے پر بھی بمباری کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا نفرت پھیلانے والوں کے لیے حکومتی مراعات پر مکمل پابندی کا فیصلہ
اسرائیلی فوج کی تصدیق
اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای ادرعی نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حملے حزب اللہ کے متعدد عسکری مراکز، اسلحہ ذخیرہ کرنے اور اسلحہ تیار کرنے کے بنیادی ڈھانچے اور راکٹ فائر کرنے کی ایک جگہ کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے ہی آئین و قانون پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے آپ مزید خرابی پیدا کر رہے ہیں:علامہ راجہ ناصر عباس
جنگ بندی کی صورت حال
واضح رہے کہ لبنان میں نومبر سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، جو ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل مسلسل لبنان، خصوصاً جنوبی علاقوں میں فضائی حملے کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ حزب اللہ کے عناصر یا ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات
انخلا کی صورتحال
معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اسرائیل جنگ کے دوران جن علاقوں میں داخل ہوا، وہاں سے واپس چلا جائے گا، لیکن اسرائیل نے اب تک پانچ اہم پہاڑی مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے، جہاں سے انخلا کا مطالبہ لبنان بارہا کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے اعتراض کیا تو کہا گیا کہ بہت لاجواب پل بنائیں گے‘‘حامد میر نے ایف 8انٹرچینج روڈ بیٹھنے پرسوال اٹھا دیا
امریکی خفیہ مشن
توقع ہے کہ آج بیروت میں امریکی سفیر برائے ترکی اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹوم بَراک پہنچیں گے، جنہوں نے سال کے اختتام سے قبل حزب اللہ کے اسلحہ کو غیر مسلح کرنے کی باقاعدہ یقین دہانی مانگی تھی۔
حزب اللہ کا موقف
دوسری طرف حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی جنوبی لبنان سے انخلا تک ہتھیار نہیں ڈالے جا سکتے۔ یاد رہے کہ لبنانی وزیراعظم نے حال ہی میں قطری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی دو ہزار بار خلاف ورزی کر چکا ہے۔








