کے پی حکومت کا ضم اضلاع کے متعلق وفاقی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار
خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع کے حوالے سے قائم وفاق کی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت ایک فسطائی ریاست بن چکا ہے، کسی غنڈے یا بدمعاش نے نہیں بلکہ ایک وزیر اعلیٰ نے مسلم خاتون کے چہرے سے نقاب نوچا، حافظ نعیم الرحمان
اجلاس میں شرکت
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اسلام آباد میں کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی، چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان غزہ میں امن کے لیے کردار ادا کرے گا، حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے: دفتر خارجہ
مشاورت کا فقدان
بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت کے بغیر کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے۔ ضم شدہ اضلاع کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر خیبر پختونخوا ہے، مگر کمیٹی کی تشکیل میں خیبر پختونخوا سے مشاورت نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا شمالی وزیرستان میں 7 خوارج واصل جہنم کرنے پرسیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
حساس علاقے کے مسائل
ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع حساس علاقے ہیں، وہاں کسی بھی قسم کی تبدیلی خیبر پختونخوا سے مشاورت کے بغیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ ضم اضلاع خیبر پختونخوا کا باقاعدہ حصہ ہیں، کمیٹی کی تشکیل کی مشاورت میں نظرانداز کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
امیر مقام کا کردار
انہوں نے پوچھا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع کا فیصلہ کرنے والے امیر مقام کون ہیں؟ امیر مقام تو خود مسترد شدہ ہیں اور فارم 47 کے سہارے پارلیمنٹ پہنچے، مسترد شدہ آدمی کیسے قبائلی اضلاع کے فیصلے کرسکتے ہیں؟ کمیٹی کے ارکان کس نے اور کیسے منتخب کیے؟ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔








