کے پی حکومت کا ضم اضلاع کے متعلق وفاقی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار
خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع کے حوالے سے قائم وفاق کی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں ایک ہفتے میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم ، ہر شہر میں گورننس کی ایکسی لینس نظر آنی چاہیے: مریم نواز
اجلاس میں شرکت
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اسلام آباد میں کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی، چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال، راولپنڈی پولیس کا بیان سامنے آگیا
مشاورت کا فقدان
بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت کے بغیر کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے۔ ضم شدہ اضلاع کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر خیبر پختونخوا ہے، مگر کمیٹی کی تشکیل میں خیبر پختونخوا سے مشاورت نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف پی ٹی آئی سمیت دیگر کی درخواستیں خارج کر دیں
حساس علاقے کے مسائل
ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع حساس علاقے ہیں، وہاں کسی بھی قسم کی تبدیلی خیبر پختونخوا سے مشاورت کے بغیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ ضم اضلاع خیبر پختونخوا کا باقاعدہ حصہ ہیں، کمیٹی کی تشکیل کی مشاورت میں نظرانداز کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
امیر مقام کا کردار
انہوں نے پوچھا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع کا فیصلہ کرنے والے امیر مقام کون ہیں؟ امیر مقام تو خود مسترد شدہ ہیں اور فارم 47 کے سہارے پارلیمنٹ پہنچے، مسترد شدہ آدمی کیسے قبائلی اضلاع کے فیصلے کرسکتے ہیں؟ کمیٹی کے ارکان کس نے اور کیسے منتخب کیے؟ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔








