پی ٹی آئی کے الزامات پر الیکشن کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا
الیکشن کمیشن کا اعلامیہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی کے بھی کئی رہنما ان سے ملتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے غزہ کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ جما لیا
مفاد پرست عناصر کی سرگرمیاں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چند مفاد پرست عناصر اور گروہ الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات تشویشناک، دنیا نوٹس لے: پاکستان
الیکشن کمیشن کی شفافیت
الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہر فیصلہ بغیر کسی کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں اور کسی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آتے اور نہ ہی ان اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کو کھیل سے جوڑنا مایوسی کی علامت ہے: محسن نقوی کا مودی کو جواب
سپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات
اعلامیے کے مطابق حال ہی میں سپیکر پنجاب اسمبلی سے چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات پر جو حقائق کے برعکس تبصرے ہوئے، ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مختلف اوقات میں الیکشن کمیشن سے کئی آئینی اور انتظامی عہدے دار سرکاری معاملات کے سلسلے میں ملتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلہ کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے، سارے کارڈ کس کے ہاتھ میں ہیں۔۔؟خواجہ آصف کھل کر بول پڑے
سابق صدر کے ساتھ ملاقاتیں
سابق صدر مملکت عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر کی اور کمیشن کے ممبران کی متعدد ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں خاص طور پر EVM اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے سلسلے میں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی دہشت گردی، دریائے چناب اور جہلم کا پانی روک لیا
پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواستیں
مزید یہ کہ پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر اُن سے ملتے رہے ہیں، جن میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، اُس وقت کے جنرل سیکرٹری اسد عمر، پرویز خٹک، محمود خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صائمہ نور کا ڈرامے میں ڈانس کا کلپ وائرل، مداحوں کی پرانی یادیں تازہ
وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ ملاقات
اسی طرح کچھ معاملات پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی چیف الیکشن کمشنر کی وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ ممبران الیکشن کمیشن بھی باقی وزرائے اعلیٰ سے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ملتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو وارننگ دے دی
الیکشن کمیشن کی وضاحت
اعلامیے میں کہا گیا کہ کیا اُس وقت یہ درست تھا اور اب غلط ہے۔ الیکشن کمیشن کا کوئی بھی عہدے دار کسی ذاتی کام کے لیے اور ذاتی حیثیت میں کسی بھی شخصیت سے نہیں ملا۔ سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کا الیکشن کمیشن کو اپروچ کرنا کسی طور پربھی خلاف ضابطہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا یوم آزادی منانے کے لیے پاکستان کمیونٹی سرگرم، تیاریاں شروع کردیں
صاحبزادہ محمد حامد رضا کا الزام
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق صاحبزادہ محمد حامد رضا کا یہ الزام کہ ریٹرننگ آفیسر نے اسے سنی اتحاد کونسل کا امیدوار ڈکلیئر نہیں کیا سراسر غلط ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی پر اپنا تعلق سنی اتحاد کونسل الائنس پی ٹی آئی لکھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر نکسن کے سیکرٹری چک کالسن کو چند سال قید میں گزارنا پڑے، جو لوگ واٹر گیٹ سکینڈل میں ملوث تھے انہیں قانون کے مطابق سزائیں ہوئیں
انتخابات کے حوالے سے غلط معلومات
موصوف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو ڈیکلریشن جمع کروایا وہ پی ٹی آئی نظریاتی (PTI-N) کا تھا اور اس کے ساتھ مذکورہ بالا پارٹی کا ٹکٹ بھی جمع نہیں کروایا۔ ریٹرننگ آفیسر نے انہیں ضابطے کے تحت آزاد امیدوار کے طور پر مینار کا نشان دیا۔
حامد رضا کا مؤقف
اگر صاحبزادہ محمد حامد رضا کا مؤقف اتنا ہی درست ہے تو کم از کم کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنی ہی پارٹی کا ٹکٹ لگادیتے۔ اس کے علاوہ، الیکشن کمیشن نے جب سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ اس نے الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 206 کے تحت کتنی خواتین امیدواروں کو نامزد کیا تو صاحبزادہ حامد رضا نے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر اپنے دستخطوں سے مطلع کیا کہ جنرل الیکشن 2024 میں کسی امیدوار نے بھی سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ لہذا خواتین امیدواروں کی لسٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔








