پاکستان تحریک انصاف نے وفاق کی فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی مسترد کر دی
پریس کانفرنس کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا کے لیے امیر مقام کی کنوینئر شپ میں بنائی گئی کمیٹی کو تحلیل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیٹی بنانا وفاق کی صوبے میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چودھری شجاعت نے ملکی معاملات میں امریکی مداخلت کا امکان مسترد کر دیا
حاضرین اور گفتگو
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سابق گورنر کے پی شاہ فرمان، شیخ وقاص اکرم، اقبال آفریدی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے ہمیشہ حساس رہے ہیں اور 25 ویں ترمیم کے بعد یہ علاقے صوبے میں ضم ہو چکے ہیں۔ فاٹا کے لیے امیر مقام کو ایک کمیٹی کا کنوینئر منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا ہوگا؟
کمیٹی کی تنقید
ڈان نیوز کے مطابق، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج دوسری میٹنگ تھی مگر ہمارے فاٹا کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔ سترہ میں سے 14 ایم پی ایز پی ٹی آئی کے ہیں، اور ہمارا کوئی بھی نمائندہ کمیٹی میں نہیں گیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی فروخت میں بڑی کمی ریکارڈ، اعدادوشمار جاری
وفاقی حکومت کی ذمہ داری
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی سیفرون کی کمیٹیاں ہیں، مگر کسی بھی میٹنگ میں فاٹا کے حوالے سے کبھی کچھ نہیں کیا گیا۔ ہم وفاقی حکومت سے دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ امیر مقام کی کنوینئر شپ میں جو کمیٹی بنائی گئی ہے، اسے تحلیل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں پراسرار آتشزدگی کے واقعات اور امریکی پروازوں کے خلاف مبینہ روسی سازش
سابق گورنر کی رائے
سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ فاٹا کو الگ کرتے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ عوامی نمائندوں کے ذریعے فنڈز دیے جائیں گے۔ فاٹا کے ایم این ایز پورے ملک کے لیے ووٹنگ کرسکتے تھے مگر فاٹا کے لیے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصری وزیر خارجہ کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے کا عزم
ثقافتی پس منظر
انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے نمائندوں کو حق دینے کا بل پیش ہوا اور منظور بھی ہوا تھا، جبکہ ایف سی آر کے قانون کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ سیٹل ایریا کے مراعات کی تجدید بھی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب تھانہ نیو ٹاؤن مقدمہ میں شامل تفتیش، تحریری بیان جمع
کمیٹیز کا بائیکاٹ
شاہ فرمان نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔ ہم حکومتی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انہیں مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1977ء میں جنرل محمد ضیاء الحق بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے بعد چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بن گئے، عطیہ عنایت اللہ کو مرکزی کیبنٹ میں شامل کر لیا
ایف سی آر کا مسئلہ
اقبال آفریدی نے کہا کہ دنیا کا اصول ہے کہ پہلے فنڈز دیں پھر ٹیکس لیں۔ مگر فاٹا میں پہلے ٹیکس لگایا جا رہا ہے اور فنڈز سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے قبائلی علاقوں کا اسٹیٹس تبدیل کیا جا رہا ہے، اور وفاقی حکومت کا اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مزاحمت کی تیاری
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مشاورت ایک بہانہ ہے، اور ہم مزاحمت کریں گے۔ فاٹا اور کے پی کے لوگ اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات سو ارب سے زائد پیسے فاٹا کے دینے ہیں اور یہ قرض وفاقی حکومت پر ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ دو نمبر کمیٹیاں بنیں گی، اور فاٹا کے نمائندے انہیں قبول نہیں کریں گے۔








