پشاور ہائیکورٹ؛ مخصوص نشستوں کی تقسیم کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: 100 سے زائد بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے والے چوہے نے عالمی ریکارڈ بنادیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، پشاور ہائیکورٹ میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے بیان دیا کہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف پنجاب کی طرف سے اربوں روپے کی زائد ادائیگیوں کے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی
الیکشن کمیشن کی جانب سے نشستوں کی تقسیم
وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم منصفانہ نہیں کی۔ ہمیں 8 کی بجائے 9 خواتین کی مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں تھیں۔ الیکشن کمیشن نے جے یو آئی کو 10 مخصوص نشستیں دی ہیں، جبکہ ن لیگ اور جے یو آئی کو 9،9 نشستیں ملنی چاہئیں تھیں۔ ہم نے صوبائی اسمبلی کی 5 جنرل نشستیں جیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی عدالت نے سابق وزیر کو رشوت ستانی کے الزام میں سزائے موت سنا دی
عدالت کے سوالات
عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب پراسیس مکمل نہیں ہوتا تو نشستوں کی تقسیم کیسے کی جا سکتی ہے؟ سپیشل سیکرٹری لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کے 21 دن بعد اسمبلی اجلاس بلانا لازم ہوتا ہے۔ جسٹس سید ارشد علی نے وضاحت کی کہ آپ نے آزاد ارکان کو پارٹیوں میں شامل ہونے کے لیے 22 فروری آخری تاریخ مقرر کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کتنے ارب ڈالر لگا چکا ہے؟ ٹی وی پروگرام میں انکشاف
21 نشستوں کی منطق
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ آپ نے 5 نشستیں 22 فروری کی پارٹی پوزیشن پر دیں، جبکہ 21 نشستیں مارچ میں دی گئیں۔ اس کی کیا منطق ہے؟ سپیشل سیکرٹری لاء الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ 22 فروری کی پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر نشستیں دی گئی ہیں۔ جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اگر آپ تمام نشستیں 22 فروری کو دیتے تو مسئلہ مختلف ہوتا۔
فیصلے کا انتظار
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔








