زیر حراست ملزم کا انٹرویو قابل قبول شہادت نہیں، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کا زیرِ حراست ملزمان کے انٹرویوز سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آگیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اعترافِ جرم صرف آزاد ماحول میں ممکن ہے۔ زیرحراست ملزم کا انٹرویو قابل قبول شہادت نہیں نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا
فیصلے کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ نے 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں قتل کیس میں سزائے موت کے ملزم شاہد علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کو سزا دینے میں صرف ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا، جو کہ اس وقت ریکارڈ کیا گیا جب وہ پولیس کی تحویل میں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب خضرافضال کی زیر صدارت کھیلتا پنجاب گیمز کے حوالے سے اہم اجلاس
اعترافِ جرم کی قانونی حیثیت
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم نے اعترافِ جرم لاک اپ سے نکال کر میڈیا کے سامنے کیا جو کہ غیرقانونی طریقہ ہے۔ تفتیشی افسر اپنا اختیار کسی رپورٹر یا صحافی کے حوالے نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو نااہلی درخواست پر سماعت: عدالت کی اعتراض دور کرنے کی ہدایت
عدالت کا مؤقف
عدالت نے قرار دیا کہ اعترافِ جرم صرف مجاز افسر یا مجسٹریٹ کے سامنے آزاد ماحول میں ہی قابلِ قبول ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ زیر حراست ملزمان اکثر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور کئی بار دباؤ سے بچنے کے لیے جھوٹا اعتراف بھی کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حرامانی کی بولڈ ساڑھی نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا
حکم نامہ
عدالت نے فیصلے کی نقول وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پیمرا اور وزارتِ اطلاعات کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی رپورٹر کو زیرِ حراست ملزم تک رسائی دینا معمولی بات نہیں، اور ایسا طرزِ عمل میڈیا ٹرائل کا سبب بن سکتا ہے۔
بے گناہی کا اصول
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک منصفانہ ٹرائل سے مجرم ثابت نہ ہو جائے۔








