عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر اور چیف جسٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
بین الاقوامی فوجداری عدالت کا فیصلہ
ہیگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ججوں نے افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 5منزلہ عمارت گر گئی
وارنٹ گرفتاری کی وجوہات
آئی سی سی کی جانب سے وارنٹ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جبری اقدامات، بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ عالمی عدالت کے ججوں نے طالبان رہنماؤں پر عائد ان سنگین الزامات کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی پیرول رہائی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری
شواہد کی موجودگی
آئی سی سی کے جج نے وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ معقول شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان رہنماؤں نے خواتین کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ احتساب عدالت کی ملزمان کو 342کے سوالنامے کے جواب جمع کروانے کی ہدایت
محروم حقوق کی تفصیلات
عالمی عدالت کے جج نے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ طالبان نے تقریباً سب پر ہی کچھ نہ کچھ پابندیاں عائد کی ہیں لیکن بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کو جنس کی بنیاد پر بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ذاتی زندگی، خاندان، نقل و حرکت، اظہار رائے، سوچ، مذہب اور ضمیر کی آزادیوں سے محروم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی یا ن لیگ جو بھی غلط ہو، اخلاقی حدود میں رہ کر ان پر تنقید کریں: سہیل آفریدی
وارنٹ جاری کرنے کی درخواست
خیال رہے کہ 30 جنوری کو عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دائر کی تھی اور اس درخواست کی سماعت کے بعد آج طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
عدالت کی حیثیت
نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (ICC) دنیا بھر میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سماعت کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جس کسی کے خلاف عالمی فوجداری عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہو وہ کسی رکن ملک کا سفر نہیں کرسکتا کیونکہ وہاں اس کی گرفتاری کا خطرہ ہوتا ہے.








