ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رائفل کے ساتھ جمعے کا خطبہ دیا
ایران کے سپریم لیڈر کا جمعے کا خطبہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آج تہران میں رائفل تھامے جمعے کا خطبہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملزمان کو حوالات میں رکھاجائے، شخصی ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، آئی جی پنجاب
حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد پہلا خطاب
گزشتہ دنوں بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای نے آج پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
بارہ سال بعد جمعے کا خطبہ
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے تقریباً 5 سال بعد جمعے کا خطبہ دیا اور اپنے خطبے کے دوران انہوں نے بارہا اپنے پہلو میں رکھی رائفل کی بیرل کو تھاما۔ ایرانی علماء نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس طریقہ کو اپنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا چین پر 104 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان، چین کا شدید ردعمل، ہالی ووڈ فلموں پر ممکنہ پابندی کی بازگشت
دفاع کی ضرورت اور مسلم اتحاد
آج دیے گئے خطبے میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ مسلمان قوموں کو افغانستان سے یمن، ایران سے غزہ اور لبنان تک دفاعی لائن بنانا ہوگی، ہر ملک کو جارح کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مسلمان متحد ہو جائیں تو دشمنوں پر قابو پا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر صفدر محمود سے کہا گیا کہ سٹوڈنٹس میگزین / خبرنامہ کے اجراء کے لیے کام کریں، وہ جلد ہی اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے پاکستان یوتھ موومنٹ چھوڑ گئے۔
مشترکہ دشمن کا ذکر
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ہم سب کا دشمن ایک ہے اور اس کی پالیسی مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی ہے۔ ایران کا دشمن فلسطین، لبنان، عراق، مصر، شام اور یمن کا دشمن ہے۔
اسرائیل کے خلاف کارروائی کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ جس طرح 7 اکتوبر کا حملہ جائز تھا اسی طرح ایران کا اسرائیل پر حملہ بھی جائز ہے۔ ضرورت ہوئی تو مستقبل میں بھی کارروائی کریں گے، ہم اسرائیل کو جواب دینے میں تاخیر نہیں کریں گے اور نہ ہی جلدی کریں گے۔ اسرائیل قتل و غارت اور عام شہریوں کو قتل کرکے جیتنے کا ڈرامہ کر رہا ہے، اسرائیلی حکومت کے جرائم اس کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔








