ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رائفل کے ساتھ جمعے کا خطبہ دیا
ایران کے سپریم لیڈر کا جمعے کا خطبہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آج تہران میں رائفل تھامے جمعے کا خطبہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں روپے مالیت کی 1600 فٹ سے زائد ریلوے لائنیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار
حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد پہلا خطاب
گزشتہ دنوں بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای نے آج پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ؛ خاتون اور اس کے بیٹے کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار، مقتولہ کی 3 سالہ بیٹی کو بھی قتل کرنے کا اعتراف
بارہ سال بعد جمعے کا خطبہ
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے تقریباً 5 سال بعد جمعے کا خطبہ دیا اور اپنے خطبے کے دوران انہوں نے بارہا اپنے پہلو میں رکھی رائفل کی بیرل کو تھاما۔ ایرانی علماء نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس طریقہ کو اپنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی ادارے آئی پی ایس او ایس نے وفاقی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی بارے اہم رپورٹ جاری کر دی
دفاع کی ضرورت اور مسلم اتحاد
آج دیے گئے خطبے میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ مسلمان قوموں کو افغانستان سے یمن، ایران سے غزہ اور لبنان تک دفاعی لائن بنانا ہوگی، ہر ملک کو جارح کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مسلمان متحد ہو جائیں تو دشمنوں پر قابو پا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈنگ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم محمد مسرور ذمہ داریوں سے الگ ہو گئے
مشترکہ دشمن کا ذکر
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ہم سب کا دشمن ایک ہے اور اس کی پالیسی مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی ہے۔ ایران کا دشمن فلسطین، لبنان، عراق، مصر، شام اور یمن کا دشمن ہے۔
اسرائیل کے خلاف کارروائی کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ جس طرح 7 اکتوبر کا حملہ جائز تھا اسی طرح ایران کا اسرائیل پر حملہ بھی جائز ہے۔ ضرورت ہوئی تو مستقبل میں بھی کارروائی کریں گے، ہم اسرائیل کو جواب دینے میں تاخیر نہیں کریں گے اور نہ ہی جلدی کریں گے۔ اسرائیل قتل و غارت اور عام شہریوں کو قتل کرکے جیتنے کا ڈرامہ کر رہا ہے، اسرائیلی حکومت کے جرائم اس کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔








