حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش
حماس کی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی کے بدلے 10 قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، تنظیم کا کہنا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کئی نکات پر اختلاف موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، شاہین آفریدی کی دھواں دار بیٹنگ، پاکستان نے امارات کو ہدف دے دیا
مذاکرات کی تفصیلات
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جاری امن کوششوں کے تحت 10 قیدیوں کو رہا کرے گی۔ لیکن تنظیم نے واضح کیا ہے کہ معاہدے میں اب بھی کئی اہم نکات پر اختلاف باقی ہیں، جن میں امداد کی آزادانہ رسائی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور مستقل جنگ بندی کے لیے حقیقی ضمانتیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قلعہ نما رہائش، روبوٹ کتے اور وفاداروں کا انتخاب: امریکہ میں طاقت کا نیا مرکز جہاں ٹرمپ نئی حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں
قطر کی ثالثی
یہ اعلان قطر کی ثالثی میں 4 دن کے بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کیلئے تالیاں نہ بجائیں، ججز ٹھیک ہوتے ہیں آپ انہیں خراب کر دیتے ہیں: چیف جسٹس
حماس کی عزم
تنظیم نے بیان دیا کہ، "اگرچہ ان معاملات پر مذاکرات اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مشکل رہے ہیں، ہم ثالثوں کے ساتھ سنجیدگی اور مثبت جذبے کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ رکاوٹوں پر قابو پایا جا سکے، اپنے عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہو، اور ان کی آزادی، تحفظ اور باوقار زندگی کی خواہشات پوری کی جا سکیں۔"
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مساجد سے نمازیوں کے موبائل چوری کرنے والا ملزم گرفتار
جنگ بندی کی حیثیت
حماس نے عہد کیا ہے کہ غزہ ہتھیار نہیں ڈالے گا، جبکہ جنگ بندی مذاکرات سے وابستہ ایک فلسطینی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسرائیل اب بھی امداد کے آزادانہ داخلے کی اجازت نہ دے کر معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر فیصل واوڈا کا آمنا سامنا، خوشگوار ماحول میں بات چیت
اسرائیلی وفد کا موقف
دوحہ میں مذاکرات سے باخبر ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی وفد مذاکرات کرنے کے بجائے زیادہ تر سننے کی حالت میں تھا، جو اسرائیل کی مستقل رکاوٹ ڈالنے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
نیتن یاہو کی امیدیں
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی طرح جنگ بندی کے بارے میں امید ظاہر کی ہے۔ نیتن یاہو نے فاکس بزنس نیٹ ورک کو بتایا کہ "مجھے لگتا ہے کہ ہم معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، مثبت امکان ہے کہ ہمیں یہ معاہدہ مل جائے۔"








