پاکستان اور چین کا فیک نیوز کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
پاکستان اور چین کا معلوماتی تعاون
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور چین نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف مشترکہ نشریاتی منصوبوں اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاوید شیخ کا نادیہ خان اور عمر عدیل کو منہ توڑ جواب
ملاقات کی تفصیلات
ڈان نیوز نے ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ یہ فیصلہ جمعرات کو بیجنگ میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کی نائب سربراہ، نیشنل ریڈیو و ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن (این آر ٹی اے) کی وزیر اور پارٹی سیکرٹری کاؤ شومین کے درمیان ملاقات میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ ہاٹ لائن ”1373” اور ”گرین پنجاب ایپ” کا افتتاح، بھارتی پنجاب کیساتھ کلائیمیٹ ڈپلومیسی شروع کرنی چاہیے: مریم نواز
جعلی خبروں کے خلاف مشترکہ بیانیہ
دونوں رہنماؤں نے جعلی خبروں کے خلاف مشترکہ بیانیے پر اتفاق کیا اور تکنیکی تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے میڈیا میں جاری شراکت داری کو باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کا مظہر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے تفصیلات پبلک کردیں
معلومات کے تبادلے کے معاہدے پر گفتگو
ملاقات میں چین کے سرکاری چینل سی سی ٹی وی اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے درمیان معلومات کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مجوزہ معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخ گواہ ہے نواز شریف، زرداری سیمت ہر رہنما ڈیل کے بعد باہر گیا، بیرسٹر سیف
دوطرفہ میڈیا تعاون کی اہمیت
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ میڈیا تعاون کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) جیسی ریاستی میڈیا تنظیمیں چین کی ترقی، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، سی پیک، ثقافتی روابط اور دوطرفہ تعاون کی کہانیوں کو دونوں ممالک کے عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس ریگولر بنچ کو بھجوا دیا گیا
فکری و ثقافتی پل کی تعمیر
رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پی ٹی وی چینی پروگرامز، ڈاکیومنٹریز اور خبروں کو اردو زبان میں نشر کر کے دونوں ممالک کے درمیان فکری و ثقافتی پل تعمیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی پی کی ’چائنا نیوز سروس‘ نے پاکستانی بیانیے کو چینی قارئین تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے ہم منصب جیہون بیراموف سے رابطہ، موجودہ علاقائی صورتحال پر بات چیت
سوشل میڈیا کے ذریعے روابط کی گہرائی
حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین اور پاکستان کے نوجوانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جس یکجہتی کا اظہار کیا، وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے ایک ہفتے بعد ہی بیوٹی پارلر کی مالکن کو شوہر نے قتل کرکے لاش جلا دی
ڈیجیٹل دور میں نئے امکانات
ملاقات میں پاکستان اور چین کے ڈیجیٹل انفلوئنسرز کے باہمی دوروں پر بھی گفتگو ہوئی۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نمائندوں اور انفلوئنسرز کے تبادلے دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں 480 ملزمان ہلاک
چین کے نقطہ نظر
چینی وزیر کاؤ شومین نے کہا کہ چین پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے، اور دونوں ممالک کے میڈیا ادارے تجربات کے تبادلے کے ذریعے مزید قریب آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور قطر نے ایک ایک ارب جبکہ متحدہ عرب امارات نے غزہ کے لیے 1.2 ارب ڈالر دینے کا اعلان کردیا
ثقافتی روابط کو مزید مضبوط کرنا
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میڈیا، ثقافت اور عوامی روابط پاکستان اور چین کی دوستی میں نئے پہلو لا سکتے ہیں، اور ان کوششوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
ماضی کی شراکت داری کی یاد دہانی
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا تھا کہ ’ہم تعلیم، میڈیا، تھنک ٹینکس، نوجوانوں کے تبادلے، فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ تہذیبوں کے مابین سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے اور ثقافتی و عوامی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے‘۔








