معلوم ہے ایران کا افزودہ یورینیئم کہاں دفن ہے، حملوں کا اثر پوری دنیا پر پڑا: نیتن یاہو
نیتن یاہو کا تہران کے ایٹمی پروگرام پر بیان
یروشلم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تہران دوبارہ اپنا پروگرام شروع کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، امریکہ اور اسرائیل کو اس مسئلے کو ’کینسر‘ کی طرح لینا ہوگا، جس پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے، ہمیں اندازہ ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم زیر زمین کہاں دفن ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ڈرنے والے نہیں ، خیبر پختونخوا میں پرامن سیاسی کارکنوں پر شیلنگ قابل افسوس ہے: بلاول
ماریا بارٹی رومو سے گفتگو
ڈان نیوز کے مطابق فوکس بزنس کی ماریا بارٹی رومو سے ’مارنگ ودھ ماریا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی خوفزدہ ہیں، ایران نے طاقت دیکھ لی ہے، امریکہ کی طاقت، اسرائیل کی طاقت، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ طاقت۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں حاملہ خاتون سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار
عالمی اثرات پر تبصرہ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں کا اثر صرف مشرق وسطیٰ پر نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑا ہے، سب نے اسے دیکھا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات اُن سیکیورٹی ماہرین کے انتباہات کے برخلاف ہیں، جو کہتے ہیں کہ تہران ایٹمی پروگرام کی ترقی میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے، تاہم، نیتن یاہو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایرانی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ امریکہ اور اسرائیل نے ایک بار کیا، وہ دو یا تین بار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ: بابر اعظم کی شاندار بیٹنگ ، سڈنی سکسرز کو میلبورن رینی گیڈز کیخلاف کامیابی دلا دی
امریکہ اور اسرائیل کا کردار
اسرائیلی وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ تہران دوبارہ اپنا پروگرام شروع کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس مسئلے کو ’کینسر‘ کی طرح لینا ہوگا، جس پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع
ٹرمپ انتظامیہ کے دعوے
ٹرمپ انتظامیہ نے پرزور طریقے سے اس کی تردید کی ہے کہ ایران، امریکی حملوں سے قبل، فردو کے ایٹمی مقام سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے میں کامیاب رہا، حملے سے پہلے کی سیٹلائٹ تصاویر میں اس مقام پر تقریباً درجن بھر ٹرک دیکھے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران: رہائشی عمارت میں گیس دھماکے سے 6 افراد جاں بحق
صہیونی وزیراعظم کے خدشات
تاہم، نیتن یاہو نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے ان دعوؤں سے اختلاف کرتے ہوئے اسرائیلی انٹیلی جنس کے حوالے سے کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ افزودہ یورینیئم (مواد) کہاں زیر زمین دفن کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اعضا اور خون کا عطیہ دینا اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز ہے:چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل
ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت
صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی مکمل صلاحیت ہے، چاہے تہران نے کچھ افزودہ یورینیم اپنے اعلیٰ ترین نیوکلیئر مقام سے منتقل کر لیا ہو، کیوں کہ ان کے ایٹمی پروگرام کے دیگر اہم عناصر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو اقتدار کیلئے میدان میں کون ہوگا؟
ایران کی مذاکرات کی پیشکش
ان کا کہنا تھا کہ افزودہ یورینیم ایٹم بم بنانے کے لیے کافی نہیں ہوتا، یہ ایک ضروری جزو ضرور ہے، لیکن تنہا ایٹم بم کی تیاری کے لیے کافی نہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، تاکہ آگے کا راستہ تلاش کیا جا سکے، لیکن ایران اور امریکہ نے واضح نہیں کیا کہ ان مذاکرات میں کیا شامل ہوگا۔
ٹرمپ کی پوزیشن
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تہران کو یورینیم افزودگی کا پروگرام رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانا چاہتے ہیں۔








