معاشی ترقی کے لیے ایک دوسرے کے سیاسی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے: پاکستان فورم
سیاسی استحکام اور معاشی ترقی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی رہائش گاہ پر منعقدہ پاکستان فورم کے ماہانہ اجلاس میں سیاسی استحکام کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری سیاستدانوں کی ہے۔ لہٰذا ایک دوسرے کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی بجائے ڈیڈلاک کو توڑا جائے اور ایک دوسرے کے سیاسی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے یہی وقت کی آواز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینٹر سے معاشقے کا دعویٰ کرنے والی لڑکی کو کس کام کی بھاری رقم ملتی تھی؟ ایسا انکشاف کہ آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔
اجلاس کی صدارت
اجلاس کی صدارت سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کی جبکہ اجلاس میں بیگم مہناز رفیع، مجیب الرحمان شامی، احمد بلال محبوب، سلمان غنی، بریگیڈئیر فاروق حمید، سعید آسی، سلمان عابد، کرنل (ریٹائرڈ) فرخ عبدللہ، ملک ذولقرنین، طاہر تنویر شہزاد، میجر ایراج ذکریا، دردانہ نجم ودیگر نے شرکت کی۔ خورشید قصوری نے کہا کہ بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی فتح نے پاکستان کو ناقابل تسخیر ثابت کیا ہے مگر آگے بڑھنے کے لیے سیاست کو مضبوط بنانا ہو گا جس کیلئے سیاست کو ذاتیات سے پاک کرنا ہوگا۔ ملکی ترقی معیشت کی مضبوطی سے مشروط ہے اس حوالہ سے سنجیدگی اختیار کرنا ہو گی۔ پاکستان کو دنیا میں ملنے والی عزت کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی فوج کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو
سیاسی چیلنجز کا سامنا
سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ ہمیں مایوسیوں سے نکلنا ہو گا، پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور پریشانی والی بات نہیں ہے، سیاستدان ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم
سیاسی جماعتوں کی کرداریت
بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی سپیس ملنی چاہیے۔ کسی جماعت کو دیوار سے لگا کر آگے نہیں بڑھا جاسکے گا۔
احمد بلال محبوب نے کہا کہ بھارت کے خلاف فتح سے قوم کا اعتماد بڑھا ہے، ہم دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیر ہیں تو معاشی حوالہ سے مضبوط کیوں نہیں؟ اس کیلئے تدبیر کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کا ایونٹ میں واپسی کا اعلان
عوامی مسائل اور جمہوریت
بریگیڈئیر فاروق نے کہا کہ عوام مسائل زدہ ہیں ان کے مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے۔ سلمان عابد نے کہا کہ جمہوری رویے اپنا کر ہی سیاسی استحکام قائم کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے اہل سیاست کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، سپیکر ایاز صادق سہولت کاری کیلئے تیار
بات چیت کی ضرورت
سلمان غنی نے کہا کہ ضد اور ہٹ دھرمی نے سیاست کو کمزور کیا ہے۔ ڈائیلاگ کے ذریعے ہی سیاسی بحران کا خاتمہ ہو سکتا ہے، لہٰذا مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ سب کو اپنے سیاسی کردار کیلئے سازگار فضا ملنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حقوق بلوچستان مارچ، پنجاب حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کامیاب
جمہوریت کے مستقبل کی اہمیت
سعید آسی نے کہا کہ جمہوریت کے مستقبل کا انحصار سیاستدانوں کے طرز عمل پر ہے، جمہوری طرز عمل ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
اجلاس کی رائے
اجلاس کی رائے میں سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کا ذمہ دارانہ کردار ہی ملک کو استحکام کی منزل پر پہنچا سکتا ہے جس کے لیے سب کو اپنا اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ اجلاس میں مزید کہا گیا کہ آج دنیا میں پاکستان کی عزت اور قدر و منزلت کی بڑی وجہ بھارت کے مقابلے میں سرخرو ہونا ہے، لہٰذا اسی جذبے کو بروئے کار لاکر پاکستان کو ترقی کی منزل پر لے جایا جا سکتا ہے۔








