اداکاروں پر صرف کام کی حد تک تنقید ہونی چاہیے: مومنہ اقبال
مومنہ اقبال کی تنقید پر رائے
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبول اداکارہ مومنہ اقبال نے ڈراموں پر کیے جانے والے تبصروں کے بارے میں کہا ہے کہ اداکاروں پر تنقید صرف ان کے کام تک محدود رہنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں گونگی بہری خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرم کو عمر قید سنا دی گئی
انٹرویو کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق مومنہ اقبال نے حال ہی میں ’سمتھنگ ہاٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ سیلون مالک کی ملازمہ کے ساتھ زیادتی، سنگین نتائج کی دھمکیاں
جذباتی تبدیلی
انہوں نے کہا کہ وہ پہلے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جذباتی ہو جایا کرتی تھیں، لیکن اب انہوں نے خود کو مضبوط بنا لیا ہے اور اب وہ باتوں کو خود پر اثرانداز نہیں ہونے دیتیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آفس کی تزئین و آرائش کے لیے 6 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز
والد کی وفات کے بعد تبدیلی
مومنہ اقبال نے بتایا کہ ان کے اندر یہ تبدیلی والد کے انتقال کے بعد آئی اور انہیں لگتا ہے کہ اب کوئی ان کے والد کو جا کر ان کی شکایت نہیں کر سکتا کیونکہ جب انسان زندگی میں کوئی قیمتی چیز کھو دیتا ہے تو وہ لاپروا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف غریب نہیں، بڑی صنعتیں، فرنس آئل پلانٹس بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں: وزیرِ توانائی
پروڈیوسرز کی شکایت
جب میزبان نے ان سے پوچھا کہ پروڈیوسرز اور ہدایتکار اکثر شکایت کرتے ہیں کہ اداکار وقت پر سیٹ پر نہیں پہنچتے، تو کیا یہ شکایت درست ہے؟
اس پر مومنہ نے جواب دیا کہ یہ شکایت درست تو ہے لیکن یکطرفہ ہے، کیونکہ صبح 10 بجے اکثر لوگ خود بھی سیٹ پر موجود نہیں ہوتے، تو ایک اداکار اکیلا آکر کیا کرے گا؟
انہوں نے مزید کہا کہ پروڈیوسرز کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم رات گئے تک کام کرتے ہیں اور جب ہم اپنا کام مکمل طور پر دے رہے ہیں تو شکایت کا جواز باقی نہیں رہتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سفارت خانے کا جعلی کارڈ استعمال کرنے والا افغان شہری گرفتار
شفٹ کے اصول
اداکارہ کے مطابق اصولاً ڈراموں کے سیٹ پر 8 گھنٹے کی شفٹ ہونی چاہیے، تاہم انہیں دیر تک کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر کوئی اداکار وقت پر پہنچ بھی جائے، تو سیٹ پر موجود مسائل کی وجہ سے اسے ویسے بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور میئر نیویارک ظہران ممدانی کی ملاقات، ان کی ہر ممکن مدد کریں گے، امریکی صدر
تنقید کا احترام
پروگرام ’کیا ڈراما ہے‘ میں ڈراموں پر کیے جانے والے تبصروں کے بارے میں مومنہ اقبال نے کہا کہ جب تک تنقید کام سے متعلق ہو، انہیں فرق نہیں پڑتا، لیکن تبصرہ کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم سب ایک ہی انڈسٹری کا حصہ ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ہم سب ایک ہی انڈسٹری کا حصہ ہیں، اس لیے ایک دوسرے کا احترام کرنا ضروری ہے۔
کیا ڈراما ہے پروگرام
’کیا ڈراما ہے‘ ایک پروگرام ہے جو 24 نیوز پر نشر کیا جاتا ہے جس میں انڈسٹری کی کئی سینئر اداکارائیں حالیہ ڈراموں پر تبصرہ کرتی ہیں۔
گزشتہ دنوں نادیہ خان کو اسی پروگرام میں ڈراموں پر کی گئی تنقید کے باعث ساتھی فنکاروں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے ناقدین کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔








