کامران اکمل نے ٹیم سلیکشن کے غیر شفاف عمل پر سوال اٹھا دیے
سلیکشن کے عمل پر سوالات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے سلیکشن کے غیر شفاف عمل پر سوال اٹھا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، افغان کشیدگی؛ چین نے خطے میں امن کے لیے بڑی پیشکش کر دی
تبدیلیوں کا عدم استحکام
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق پروگرام ’’سپورٹس ورلڈ‘‘ میں کامران اکمل نے کہا کہ ہر 4 ماہ بعد کپتان، سلیکٹر، کوچ سب کچھ بدل رہا ہے، کوئی ایک نظام نظر نہیں آتا، نہ کوئی ایسا ہے جو معاملات کو درست سمت میں لے جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مسیحی برادری نے شارجہ میں ایسٹر کا جشن منایا، قونصل جنرل کی شرکت
فیصلوں کا اثر
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ چند افراد کی پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلوں کا نقصان پوری ٹیم کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں 3 پریشر گروپس ہیں : شیر افضل مروت
سلمان علی آغا کی قیادت پر تحفظات
انہوں نے ٹی ٹوئینٹی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کو سونپنے اور ممکنہ طور پر ون ڈے ٹیم کا کپتان بنانے کی خبروں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
تجربہ اور سیکھنے کا عمل
کامران نے کہا کہ سلمان نے ایک فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں تینوں فارمیٹس کا کپتان بنا دیا جائے، ابھی وہ نئے ہیں انھیں سیکھنے دیں، ہم بنگلا دیش کو ہرا کر سمجھے کہ ورلڈ کپ جیت لیا، ماضی میں سرفراز احمد کے دور میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔








