حمیرہ اصغر کے بھائی نے میت وصول کرنے کے بعد بیان جاری کر دیا
اہل خانہ پر لاتعلقی کے الزامات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے انتقال کے بعد اہلِ خانہ پر لاتعلقی کے الزامات سامنے آئے، تاہم ان کے بھائی نوید اصغر نے وضاحت کی ہے کہ وہ مسلسل رابطے میں تھے اور والد نے صرف ذہنی دباؤ کے باعث وہ بیان دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں موت کی سزا پانے والے قیدی نے آخری خواہش میں پیزا، بیف برگر اور آئس کریم کھانے کی فرمائش کر دی
میت کی واگذاری
تفصیلات کے مطابق منگل کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی میت ان کے بھائی کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس نے عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے کے دوران ان کی بوسیدہ لاش دریافت کی۔
یہ بھی پڑھیں: فوری طور پر بند سڑکوں کو کھول دیا جائے، علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ابھی تک فرار ہیں: محسن نقوی
والد का انکار اور بہنوئی کا اقدام
قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ اداکارہ کے والد نے میت وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم بعد میں ان کے بہنوئی نے میت وصول کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ کیا، لیکن پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ میت صرف خونی رشتہ دار کے حوالے کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چینی چینی کی پکار، مگر مچھوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کرایا، سوالوں کا جواب نہ ملا تو آئندہ انتخابات میں بڑے بریک تھرو ہوں گے
میت وصول کرنے کا عمل
گزشتہ روز اداکارہ کے بھائی نوید اصغر، میت وصول کرنے کے لیے کراچی پہنچے، انہوں نے پولیس سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد چھیپا فاؤنڈیشن نے میت ان کے حوالے کر دی۔ نوید اصغر نے رمضان چھیپا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن خوددار تھی، اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور آگے کی منازل آسان کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کے عام انتخابات میں انتخابی سرگرمیوں میں پاکستانی اور دیگر ایشیائی ممالک کے شہریوں کی لبرل پارٹی کی حمایت
کنٹریکٹ بندی کی وضاحت
انہوں نے کہا کہ یہ خبر غلط ہے کہ ہم نے اپنی بہن سے لاتعلقی اختیار کر رکھی تھی، ہم گذشتہ تین روز سے پولیس اور چھیپا سے مسلسل رابطے میں تھے اور ہمیں میت وصول کرنے آنا تھا، چونکہ قانونی کارروائی میں وقت لگتا ہے، اس لیے اب میت وصول کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار ارباز خان نے خوشبو کے ساتھ اپنی طلاق کی تصدیق کر دی
خاندان کی پریشانی
مرحومہ کے بھائی کے مطابق حال ہی میں ان کی چھوٹی پھپھو کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا تھا، جس کی وجہ سے والد اور والدہ شدید پریشان تھے، اس دوران حمیرا کے انتقال کی خبر آئی، جس کے بعد مسلسل فون کالز آنے لگیں، والد نے اسی پریشانی میں میت وصول کرنے سے انکار کیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا
خودمختاری کا اعتراف
نوید اصغر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بہن خودمختار تھی اور اپنی مرضی سے شوبز میں آئی تھی، تاہم والدین کا پوچھ گچھ کرنا ایک فطری امر ہے کیونکہ اولاد پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر عرفان سلیم کا نام فائنل کر لیا گیا
رابطے میں خامی
انہوں نے بتایا کہ والدہ کا بہن سے تقریباً ایک سال سے رابطہ نہیں تھا، آخری بار والدہ نے بات کی تو رہائش کے بارے میں بھی پوچھا تھا، لیکن حمیرا نے کچھ نہیں بتایا، گزشتہ چھ ماہ سے تو والدہ کی بھی ان سے کوئی بات نہیں ہوئی، اس کا فون بند تھا اور ہم نے کئی بار معلومات لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، والدہ کو اس کے رہائش کے علاقے کا بھی علم نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹینس تباہی کی راہ پر گامزن، موجودہ قیادت ذمہ دار ہے: آصف ڈار
میڈیا کا کردار
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا مسلسل ہماری فیملی پر بحث کر رہا ہے، جب کہ میڈیا کو کیس کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات کرنی چاہیے، انہیں مالک مکان سے بھی سوالات کرنے چاہئیں، یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ دروازہ کیسے کھلا؟ مالک مکان نے اتنے عرصے سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی امریکہ کی مرضی پر منحصر نہیں ہے، مفتاح اسماعیل
ذہنی اذیت اور شواہد کی کمی
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ہمارے خاندان سے متعلق خبروں کی وجہ سے والدہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں، ہم یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا کوئی تالا توڑ کر اندر داخل ہوا؟ جہاں حمیرا رہائش پذیر تھی، وہاں کیمرے کیوں نہیں تھے؟ اگر سی سی ٹی وی موجود ہوتے تو حقائق فوری سامنے آ سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جیوے، جیوے پاکستان” فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے نعرہ بازی، پاک فوج کے سربراہ کا خیرمقدم
آگے کا لائحہ عمل
اداکارہ کے بھائی نے مزید کہا کہ بہن کی لاش اس کنڈیشن میں نہیں کہ کچھ کہا جائے، فرانزک رپورٹس آئیں گی تو اس کے بعد اپنا لائحہ عمل بتائیں گے۔
چھیپا ویلفیئر کا وضاحتی بیان
دوسری جانب چھیپا ویلفیئر کے سربراہ رمضان چھیپا نے کہا کہ نوید بھائی گزشتہ دو سے تین دن سے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا کہ حمیرا کے والدین ناراض ہیں اور میت وصول نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حمیرا اصغر کے والدین کا میت وصول نہ کرنے کا تاثر بالکل غلط ہے۔








