لاہور سے رائیونڈ تک صرف 16 کلومیٹر طویل موٹروے تعمیر کی تیاریاں، این ایچ اے کا سروے شروع
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ لاہور سے رائیونڈ تک صرف 16 کلومیٹر طویل موٹروے تعمیر کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، غزہ اور افغانستان کی صورتحال پر انتہائی دل گرفتہ ہوں، ملالہ یوسفزئی کا اقوام متحدہ میں خطاب
چیئرپرسن کی رائے
تفصیل کے مطابق چیئرپرسن قرۃ العین مری کی زیرصدارت ہونے والے اس اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔ چیئرپرسن قرۃ العین مری نے کہا کہ پنجاب میں نئی موٹروے کی تعمیر تب تک نہیں ہونی چاہیے جب تک دیگر صوبوں میں زیر تعمیر موٹروے مکمل نہ ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے میں جدید زرعی مشینری کے استعمال سے سموگ اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئی ،مریم اورنگزیب
سینیٹر منظور کاکڑ کی تجویز
سینیٹر منظور کاکڑ نے یارک-ژوب روڈ (این 50) کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان کیلئے مسائل بڑھ گئے، ایک اور پریشان کن خبر
موٹروے کے منصوبے کی تفصیلات
این ایچ اے کے حکام نے بتایا کہ لاہور سے رائیونڈ تک 16 کلومیٹر کی موٹروے تعمیر کی جائے گی جس پر قرۃ العین مری نے سوال اٹھایا، "کیا آپ صرف ایک گھر کے لیے موٹروے بنا رہے ہیں؟" حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کی لاگت صوبائی حکومت برداشت کرے گی جبکہ فی الحال این ایچ اے زمین کا سروے کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی ایچ نیشنز کپ فائنل میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 2-6 سے شکست دے دی
پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام
دنیانیوز کے مطابق اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ہزار ارب روپے کے اخراجات کیے گئے تھے۔ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں 55 غیر منظور شدہ منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن کے لیے منصوبہ بندی کمیشن مکمل جائزے کے بعد نوآبجکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے جدہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پرندہ ٹکرانے کے بعد کراچی میں اتار لی گئی
بجٹ کی تفصیلات
اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں این 5 ہائی وے کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ہائی وے کے سات منصوبوں کے لیے غیر ملکی امداد دستیاب ہے۔ موٹروے ایم 6 کی تعمیر کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک تین سیکشنز کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا جبکہ مزید دو سیکشنز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر احسن اقبال کا انرجی چائنا پاکستان کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سٹریٹجک شراکت داری کے عزم کا اعادہ
دیگر ترقیاتی امور
حیدرآباد-سکھر موٹروے کے علاوہ اس راستے پر موجود جی ٹی روڈ کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے اسلام آباد کی سرکاری لائبریری میں کتابوں کو دیمک لگنے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ دارالحکومت میں ایک علامہ اقبال ریسرچ سینٹر اور لائبریری کھولنے کا منصوبہ ہے۔
ترقیاتی فنڈز کا استعمال
سینیٹر سعدیہ عباسی نے زور دیا کہ ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ریمارکس کو حکام وزراء کے خلاف بیانات سمجھا جاتا ہے جبکہ انہوں نے نیشنل ہیریٹیج سینٹر قائم کرنے کے منصوبے پر بھی سوال اٹھایا۔








