بھارت میں مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال، ایک دن میں معیشت کو 15 ہزار کروڑ کا نقصان
ملک گیر ہڑتال کی تفصیلات
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں کروڑوں مزدور، کسان، بینک ملازمین اور ٹرانسپورٹ ورکرز نے مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے رپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ 30 سے 40 کروڑ افراد نے بھارت بند میں حصہ لیا، جس سے ریلوے اسٹیشن سنسان، بینک بند، اور بازار مکمل ویران ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کی اکثریت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کر دی
ریاستوں میں ہڑتال کا اثر
کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں دفاتر، سکول، پبلک ٹرانسپورٹ اور انڈسٹری سب کچھ بند رہا۔ سی آئی آئی کے مطابق صرف ایک دن میں معیشت کو تقریباً 15,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایمرجنسی میں خون کی ضرورت ہو تو پریشان نہ ہوں، اب 15 پر کال کر کر سیف سٹی بلڈ بینک سے فوری خون کی بوتل حاصل کریں
احتجاج کی وجوہات
یہ احتجاج کسان دشمن پالیسیوں اور مزدور کش قوانین کے خلاف کیا گیا۔ بینکنگ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور گاؤں سے لے کر شہروں تک لوگ حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، بھارتی مین سٹریم میڈیا کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر #BharatBandh2025 ٹرینڈ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کی پالیسی بنا دی، نرسنگ سٹوڈنٹس کو 30 ہزار ماہانہ وظیفہ ملے گا: ڈاکٹر عذرا پیچوہو
کسانوں کی واپسی اور مطالبات
کسانوں نے ایک بار پھر دہلی کی سرحدوں کا رخ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2020-21 میں جو وعدے کیے گئے تھے، وہ وفا نہیں ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز اپنی لڑائیاں خود لڑیں، وکلا ساتھ نہیں ہیں، سیکریٹری جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ بار
سماجی مسائل اور عوامی غصہ
دوسری جانب ملک میں اقلیتوں، خواتین، قبائلیوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور عدم تحفظ کا ماحول بھی عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف اونچی ذات کے ہندو ہی اس ملک میں محفوظ ہیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق بھارت بند اب صرف ایک دن کی ہڑتال نہیں بلکہ ایک انقلاب کی دستک ہے۔ عوامی صبر ختم ہو چکا ہے، اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر واضح عدم اعتماد سامنے آ چکا ہے۔








