میں نے بیٹوں کو ذاتی فون نہیں دیا، ان پر کڑی نظر رکھتا ہوں: احسن خان
احسن خان کا بیٹوں کی پرورش پر زور
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف اداکار احسن خان نے کہا ہے کہ انہوں نے آج تک بیٹوں کو ذاتی موبائل فون نہیں دیا۔ ان کے پاس کچھ آلات موجود ہیں، لیکن وہ ہمیشہ بیٹوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ: ڈاکوؤں نے 21 زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو لوٹ لیا
بچوں کی خوشی اور کامیابی
ڈان نیوز کے مطابق حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں احسن خان نے بچوں کی پرورش، ان کی آن لائن سرگرمیوں اور دیگر مسائل پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو کوئی چیز دلوانا اور ان کے چہرے پر خوشی دیکھنا کوئی کامیابی نہیں بلکہ یہ عارضی خوشی ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ضد نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت سے سزائیں؛الیکشن کمیشن نے 2ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیدیا
والدین کی ذمہ داریاں
احسن خان کے مطابق، بچوں کے لیے اچھا بیڈروم بنوانا مکمل ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ وقت گزارا جائے، ان کی سرگرمیوں اور طرز زندگی پر نظر رکھی جائے اور انہیں معاملات سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں کو صرف طالبعلم نہیں مفکر، موجد اور ذمہ دار شہری کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے: صدر کا عالمی یومِ تعلیم پر پیغام
ڈیجیٹل دور کی چیلنجز
اداکار نے یہ بھی بتایا کہ شاید جدید والدین خود آن لائن اور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے زیادہ واقف نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں پر اچھی طرح نظر نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن اور ڈیجیٹل سرگرمیاں خطرناک ہو سکتی ہیں، اور والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو مانیٹر کرکے انہیں محدود کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پی ٹی آئی دور میں 310 گاڑیاں غیر قانونی خریدنے کا نیا سکینڈل سامنے آ گیا
احسن خان کے بیٹوں کی عمر
احسن خان نے بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے کی عمر 15 سال ہے جبکہ چھوٹے بیٹے کی عمر 11 سال سے زیادہ ہے، لیکن انھوں نے ابھی تک دونوں بیٹوں کو ذاتی فون نہیں دیا۔ انہیں دیگر آلات دیے گئے ہیں جو کہ محدود استعمال کے قابل ہیں۔
بچوں کی حفاظت کی ضرورت
اداکار نے یہ بھی کہا کہ آن لائن سرگرمیوں کی وجہ سے بچے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں، جیسے کہ اسلام آباد میں قتل کی گئی بچی ثنا یوسف، جنہیں صرف انکار پر قتل کیا گیا۔ احسن خان نے کہا کہ وہ کسی کو غلط نہ ٹھہرا رہے ہیں، لیکن اگر والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں تو وہ انہیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔








