شہباز شریف چینی کی برآمد کے خلاف تھے، محمد مالک کا دعویٰ
وزیر اعظم کا چینی کی برآمد پر موقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن محمد مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف چینی برآمد کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کینیڈا کا تجارت، کان کنی اور زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
پروگرام میں گفتگو
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ 200 فیصد تصدیق شدہ خبر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف چینی کی برآمد کی اجازت نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہیں لاہور میں خاندانی میٹنگ میں بلا کر دو ٹوک انداز میں کہا گیا کہ اگر آپ اتنا معمولی کام بھی نہیں کر سکتے تو وزارتِ عظمیٰ چھوڑ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہزاروں بنگالی سرحد پار کر گئے، بھارت نے ایسے تمام بنگالیوں کو فوجی ٹریننگ اور ہتھیاروں سے لیس کر کے واپس مشرقی پاکستان میں لڑنے کیلیے بھیج دیا
چینی کی برآمد کی اجازت
واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ سال مجموعی طور پر سات لاکھ 90 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ملک میں 1.6 ملین ٹن اضافی چینی موجود ہے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے اسے برآمد کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واپڈا میں مستقل افسران کی غیر موجودگی، ادارہ انتظامی بحران اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا شکار
چینی کی قیمتوں میں اضافہ
چینی برآمد کرنے کے بعد سے اس کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور ڈبل سنچری کراس کرگئی ہے۔ حکومت نے اب چینی کی کمی پوری کرنے کیلئے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی اجازت دے دی ہے، جس پر ٹیکس میں بھی چھوٹ دی گئی ہے.
سیاسی اثرات
پاکستان میں اکثر شوگر ملوں کے مالکان سیاست میں ہیں جس کی وجہ سے حکومت کوئی بھی ہو، چینی کی ایکسپورٹ اور امپورٹ چلتی رہتی ہے۔ یہ الزام لگتا ہے کہ پہلے چینی برآمد کرکے پیسے کمائے جاتے ہیں، پھر چینی کی قلت سے قیمتیں بڑھا کر جیبیں بھری جاتی ہیں، اس کے بعد چینی کو امپورٹ کرکے مال بنایا جاتا ہے۔ یوں ایک ہی چیز سے کئی بار منافع کمایا جاتا ہے۔ اسی طرح گندم کے معاملے میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔








