امریکی محکمہ خارجہ کے امریکہ میں مقیم 1350 سے زائد ملازمین کی برطرفی کا عمل شروع
امریکی محکمہ خارجہ کی بھرتیوں میں کمی
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی محکمہ خارجہ نے امریکہ میں مقیم ایک ہزار 350 سے زائد ملازمین کو برطرف کرنا شروع کر دیا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفارتی عملے کی تاریخی تنظیمِ نو کی طرف بڑھ رہی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی بیرون ملک اپنے مفادات کے دفاع اور فروغ دینے کی صلاحیت کو کمزور کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا اور عام آدمی کا سکون چھین لیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا 12 اپریل کو مردان سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
برطرفیوں کی تفصیلات
ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک داخلی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ برطرفیاں امریکہ میں مقیم ایک ہزار 107 سول سروس اور 246 فارن سروس افسران پر مشتمل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
تنظیم نو کی وجوہات
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ محکمہ سفارتی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اندرونی آپریشنز کو آسان بنا رہا ہے، ہیڈکاؤنٹ میں کمی کو غیر اہم افعال، متوازی یا غیر ضروری دفاتر، اور ایسے دفاتر تک محدود رکھا گیا ہے، جہاں کافی بچت ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جھڑپ میں 7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے
مجموعی ملازمین میں کمی
محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ مجموعی کمی تقریباً 3 ہزار ملازمین پر مشتمل ہو گی، جس میں رضاکارانہ استعفے بھی شامل ہیں، جو کہ امریکہ میں مقیم 18 ہزار ملازمین میں سے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر بمباری سے امن نہیں آئے گا” روس کھل کر میدان میں آگیا
انتظامیہ کی پالیسی
یہ اقدام تنظیم نو کے اس منصوبے کا پہلا قدم ہے جسے صدر ٹرمپ نے اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعارف کرایا ہے، سابق سفارت کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ فارن سروس افسران کو نکالنے سے امریکہ کی چین اور روس جیسے بڑھتے ہوئے حریفوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: گیمبلنگ ایپ تشہیر کا مقدمہ، یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 19 جنوری تک توسیع
سیاسی ردعمل
ورجینیا سے منتخب ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور سیکرٹری آف سٹیٹ روبیو ایک بار پھر امریکہ کو کم محفوظ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان احمقانہ ترین فیصلوں میں سے ایک ہے، جو ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب چین دنیا بھر میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنا ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے، شاہد خان آفریدی
ترتیب نو کا حکم
فروری میں ٹرمپ نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو حکم دیا تھا کہ وہ فارن سروس کو ازسرِنو ترتیب دیں تاکہ ریپبلکن صدر کی خارجہ پالیسی ’وفاداری کے ساتھ‘ نافذ کی جا سکے۔ ٹرمپ بارہا وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کو ختم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے راؤنڈ میں شکست کے بعد بھارتی فضائیہ مقابلے سے ہی بھاگ گئی، دوبارہ پاکستان کے بارڈر پر طیارے نہیں لائی” پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف کا انکشاف
سفارتی بیوروکریسی کی تنظیم نو
مارکو روبیو نے اپریل میں اس تنظیم نو کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ اپنی موجودہ حالت میں ’فالتو بیوروکریسی زدہ‘ ہے۔ ان کا وژن یہ ہے کہ علاقائی دفاتر اور سفارت خانوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت ملک بھر میں رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف مکمل ہوگیا، فرزندان اسلام کل عیدالفطر منائیں گے
قانونی چیلنجز
تنظیم نو کو یکم جولائی تک مکمل ہونا تھا لیکن قانونی کارروائی کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا۔ منگل کو، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ملازمین کی برطرفی کی اجازت دے دی۔
سابقہ حکام کی تنقید
گزشتہ ہفتے، 130 سے زائد ریٹائرڈ سفارت کاروں اور دیگر سابقہ سینئر امریکی حکام نے تنظیم نو کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے ایک کھلا خط جاری کیا تھا۔








