ساتھی کو دھوکے سے ’سچ بولنے والا‘ انجیکشن لگانے پر چینی شخص بڑی مصیبت میں پڑ گیا
خطرناک کیس میں سچ بولنے کی دوا کا استعمال
شنگھائی (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے شہر شنگھائی میں ایک ملازم کو اپنے ساتھی کو تین مختلف مواقع پر دوا دے کر بے ہوش کرنے اور اس سے اہم کام کے منصوبے چرانے کے جرم میں جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قوم شہدائے وطن کی عظیم قربانیوں کی ہمیشہ سے مقروض ہے اور رہے گی: محسن نقوی
ملزم کا پس منظر
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق ملزم کا نام لی ہے، جو اپنے ایک کاروباری سفر کے دوران ایک "سچ بولنے والی دوا" سے متعارف ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کے معاملے پر آئی سی سی نے ہنگامی بیٹھک طلب کرلی
دوا کی خصوصیات
دوا کے فروخت کنندہ نے دعویٰ کیا تھا کہ "کچھ قطرے لوگوں کو سچ بتانے پر مجبور کر دیتے ہیں"، جس پر لی نے اس دوا کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے آزمانا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کولمبیا نے بھارتی سفارتی وفد کے بیان کی تردید کردی
غیر قانونی تجربات
لی نے اپنے ساتھی، وانگ، کو تجرباتی مضمون کے طور پر منتخب کیا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ خفیہ طور پر اس مادے کو دے اور پیشہ ورانہ معلومات حاصل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ اور پی پی سوشل میڈیا پر ناکام ہوئیں، خرم دستگیر کا انکشاف
واقعات کی تفصیلات
اس نے وانگ کو اس دوا کا نشانہ بنایا اور اس کے مشروبات میں چھپ کر دوا ملا دی۔
- پہلا واقعہ: 29 اگست 2022 کو، جب لی نے وانگ کی پیالی میں دوا ملا کر زرد شراب اور بیئر میں شامل کر دی۔ وانگ کو بے ہوشی اور چکر آنا شروع ہوا۔
- دوسرا واقعہ: 13 اکتوبر کو، لی نے دوبارہ بیئر میں دوا ملائی اور وانگ کو اس سے چکر آ گئے۔
- تیسرا واقعہ: 6 نومبر کو، لی نے دوا کو کرسنتھیمم چائے میں ملا کر وانگ کو پلائی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک
تحقیقات اور نتائج
تحقیقات کے بعد وانگ کے جسم میں کلونازپام اور زیلازین جیسی طاقتور ادویات پائی گئیں، جو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے بعد لی نے اعتراف کیا کہ اس نے تینوں بار دوا دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ایک بار پھر قطر کا دورہ کریں گے، شیڈول جاری
عدالتی فیصلہ
عدالت نے لی کو دھوکہ دہی کے ذریعے منشیات دینے کا مجرم قرار دیتے ہوئے اسے تین سال تین ماہ کی سزا اور 10,000 یوآن (تقریباً 1,400 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔
اخلاقی اثرات
اس واقعے نے نہ صرف کام کی جگہ پر اعتماد کو متاثر کیا بلکہ یہ ایک سنجیدہ خطرے کی علامت بن گئی ہے جس میں ایک شخص اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی صحت کے ساتھ کھیلتا ہے۔








