لورالائی واقعے میں مردہ تصور کیا جانے والا ڈیرہ غازی خان کا نوجوان زندہ نکلا
مشتبہ واقعہ کی تفصیلات
ڈیرہ غازی خان (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے علاقے لورالائی کے قریب مسافروں کو بس سے اتار کر شہید کرنے کے افسوس ناک واقعے میں مردہ قرار دیا گیا شہری زندہ نکلا۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سے وکلا کی ملاقات کی درخواست مسترد
عرفان کی شناخت
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کی شناخت ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے عرفان کے طور پر ہوئی ہے، جسے لاشوں کی شناخت میں غلطی کی وجہ سے مردہ سمجھ لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی حملوں کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے: عطاءاللہ تارڑ
واقعے کی تفصیلات
کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس ڈیرہ غازی خان، اسد چانڈیا نے بتایا کہ عرفان ان 12 مسافروں میں شامل تھا، جنہیں مسلح حملہ آوروں نے زبردستی بس سے اتار لیا تھا، تاہم عرفان وہاں سے بحفاظت بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم تنظیم کے 23 ارب 40 کروڑ کے اثاثے اور 92 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں: عظمیٰ بخاری
پناہ گزینی کی کہانی
کمانڈنٹ نے بتایا کہ جان بچانے کے بعد عرفان دوبارہ مسافر کوچ پر واپس نہیں آیا، بلکہ ایک متبادل گاڑی کے ذریعے اپنے آبائی گاؤں، واستی بوزدار، تحصیل تونسہ شریف پہنچا، ان کے اہل خانہ کے مطابق اس وقت وہ شدید صدمے کی حالت میں ہے۔
ریسکیو 1122 کے ملازم کاشف نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ عرفان نے اپنا موبائل فون اور شناختی کارڈ چھپا کر اپنی جان بچائی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے پہلے 20 ماہ کے قرض کی تفصیلات سامنے آگئیں
لاشوں کی شناخت کی غلطی
لاشوں کی بازیابی کے دوران اس کی فہرست میں عدم موجودگی کی وجہ سے حکام نے غلطی سے ایک اور مقتول شیخ ماجد کی لاش کو عرفان کی لاش سمجھ لیا تھا۔ یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوئی، جب مقامی انتظامیہ نے عرفان بوزدار کے خاندان سے لاش کی شناخت کے لیے رابطہ کیا، اور انہوں نے تصدیق کی کہ عرفان خیریت سے گھر واپس آ چکا ہے، لیکن اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف نے میاں ابوذر شاہ کی آمدن اور ٹیکس تفصیلات کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیں
حملے کی ذمہ داری
لورالائی حملے کی مبینہ طور پر ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر عائد کی گئی ہے، جس میں 9 مسافر جاں بحق ہوئے تھے، اس واقعے کی ملک بھر میں شدید مذمت کی گئی اور خطے میں مسافروں کی سلامتی پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سیاسی جماعت اداروں کیخلاف زہر اگل رہی ہے، آج اڈیالا جیل بیٹھے ہیں تو یہ اللّٰہ کی پکڑ ہے: احسن اقبال
معاشرتی تحفظ کے سوالات
ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی ٹرانسپورٹ کو رات کے وقت بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، تاہم، دن دیہاڑے ہونے والے حالیہ جان لیوا حملے نے ان مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو رات کے بجائے دن کے وقت سفر کو محفوظ سمجھتے ہیں۔
ماضی کے واقعات
دسمبر 2023 میں ڈیرہ غازی خان کو وزیرستان سے 6 حجاموں اور جنوری 2024 میں بلوچستان سے 3 افراد کی لاشیں موصول ہوئی تھیں۔ 6 حجاموں کے ورثا کو حکومت کی طرف سے معاوضہ مل چکا ہے، لیکن 3 ٹرک ڈرائیوروں (احمد رشید زُہرانی) اور دو بھائیوں (سید علی حیدر اور سید کُمیل حیدر) کے اہل خانہ کو تاحال مالی امداد نہیں ملی، حالانکہ ڈی جی خان کی ضلعی حکومت نے اس کے لیے صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر درخواست بھی دی تھی۔








