چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے کیسے مدد فراہم کر رہا ہے؟ جانیے

چین کی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیاں
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے میں کیسے مدد فراہم کر رہا ہے؟ اس حوالے سے مکمل تفصیلات جانئے۔
یہ بھی پڑھیں: برٹش ایشیائی کمیونٹی کے لیے قابلِ فخر لمحہ، عطا الحق کو 10 ملین میل پروجیکٹ کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کر دیا گیا
بلوچستان: ایک تنازعہ سے بھرپور خطہ
یوٹیوب چینل "نیا دور ٹی وی" کی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان ایک پہاڑوں سے گھرا ہوا، معدنی وسائل سے مالا مال، اور سیاسی بے چینی کا شکار خطہ ہے جہاں دہائیوں سے علیحدگی پسند ریاست پاکستان کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اب اس جنگ میں ایک نیا فریق شامل ہو چکا ہے، یعنی چین، جو کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ بلوچستان سے گزرنے والا چین اکانومک کوریڈور (سی پیک) مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ صرف انفراسٹرکچر کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک سکیورٹی آپریشن بھی بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور آئی پی پی معاہدہ قبل ازوقت ختم کرنے پر تیار
چین کی مداخلت کی وجوہات
چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف مدد فراہم کر رہا ہے، جس میں ڈرونز، نگرانی، سائبر ٹولز، اور سفارتی چینلز شامل ہیں۔ چین کی مداخلت کی وجہ سرمایہ کاری اور سٹریٹیجک مفاد ہے، کیونکہ اس نے سی پیک کے تحت 60 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ایرانی کارروائیوں کے خلاف حفاظتی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں چینی کارکنوں اور منصوبوں پر ہونے والے کئی حملے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ایران میں امریکی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار
نئے ٹیکنالوجی کے نظام
رپورٹ کے مطابق، چین نے پاکستان کو جدید ترین ڈرونز فراہم کیے ہیں، جیسے کہ سی ایچ 4، جو فاصلے سے نگرانی اور درست نشانہ بنا کر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی کمپنیاں پاکستان کو سی سی ٹی وی کیمروں، چہرہ شناخت والی ٹیکنالوجی، اور گاڑیوں کے نمبر پلیٹ سکینرز بھی فراہم کر رہی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے مشتبہ افراد کی شناخت لمحوں میں کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیمز نہ بننے سے پانی کا ضیاع اور مالی نقصان: تفصیلات جان کر آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے
سکیورٹی کی نئی حکمت عملی
پاکستان کی خفیہ ایجنسی، خاص طور پر آئی ایس آئی، چین کی مدد سے مواصلاتی مداخلت کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے، جس میں موبائل کالز، واٹس ایپ پیغامات، اور سوشل میڈیا ٹریفک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان چینی طرز پر آن لائن نگرانی کا نظام اپنا رہا ہے تاکہ علیحدگی پسند مواد کو ہٹایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، پانی کی فراہمی متاثر
پاکستان اور چین کا تعاون
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو مکمل ڈیجیٹل کاؤنٹر انسرجنسی ٹولز فراہم کیے جا چکے ہیں، جو کہ دنیا کی سخت نگرانی والی ریاستوں سے متاثر ہیں۔ پاکستان نے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی ڈویژن قائم کیا ہے جو صرف چینی منصوبوں کے تحفظ پر مامور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر فرانس اور جرمنی بھی عاجز، اسرائیل کو خبردار کردیا
انسانی حقوق اور چین کی سفارتی حمایت
چین کی سفارتی حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان معاملات کو صاف ستھرا رکھنے میں مشکل ہو رہی ہے، خاص کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں۔ جب بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر ہوتا ہے، چین پاکستان کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے، اور ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں میں ساتھ دینے والے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں: ایران نے خبردار کر دیا
خلاصہ اور نتائج
یہ درست ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی ہے، ٹیکنیکل نہیں۔ سی پیک کے ذریعے بلوچستان میں ترقی کے روشن امکانات ہیں، لیکن بلوچ علیحدگی پسند ان کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا وقفہ مکالمہ، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور بلوچ عوام کی سیاسی شراکت داری میں ہے۔
ویڈیو مواد