چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے کیسے مدد فراہم کر رہا ہے؟ جانیے
چین کی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیاں
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے میں کیسے مدد فراہم کر رہا ہے؟ اس حوالے سے مکمل تفصیلات جانئے۔
یہ بھی پڑھیں: چلڈرن لائبریری کی ری سٹرکچرنگ فروری تک مکمل کرنے کی ہدایات ، اپ گریڈیشن کیلئے 4 کمیٹیاں قائم
بلوچستان: ایک تنازعہ سے بھرپور خطہ
یوٹیوب چینل "نیا دور ٹی وی" کی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان ایک پہاڑوں سے گھرا ہوا، معدنی وسائل سے مالا مال، اور سیاسی بے چینی کا شکار خطہ ہے جہاں دہائیوں سے علیحدگی پسند ریاست پاکستان کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اب اس جنگ میں ایک نیا فریق شامل ہو چکا ہے، یعنی چین، جو کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ بلوچستان سے گزرنے والا چین اکانومک کوریڈور (سی پیک) مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ صرف انفراسٹرکچر کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک سکیورٹی آپریشن بھی بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے 5 بڑے ہیں، ان کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لیے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، رانا ثنا اللہ
چین کی مداخلت کی وجوہات
چین پاکستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف مدد فراہم کر رہا ہے، جس میں ڈرونز، نگرانی، سائبر ٹولز، اور سفارتی چینلز شامل ہیں۔ چین کی مداخلت کی وجہ سرمایہ کاری اور سٹریٹیجک مفاد ہے، کیونکہ اس نے سی پیک کے تحت 60 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ایرانی کارروائیوں کے خلاف حفاظتی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں چینی کارکنوں اور منصوبوں پر ہونے والے کئی حملے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہایت افسوسناک واقعہ: دریائے راوی میں ڈوب کر 3 بچے جاں بحق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا گہرے دکھ کا اظہار
نئے ٹیکنالوجی کے نظام
رپورٹ کے مطابق، چین نے پاکستان کو جدید ترین ڈرونز فراہم کیے ہیں، جیسے کہ سی ایچ 4، جو فاصلے سے نگرانی اور درست نشانہ بنا کر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی کمپنیاں پاکستان کو سی سی ٹی وی کیمروں، چہرہ شناخت والی ٹیکنالوجی، اور گاڑیوں کے نمبر پلیٹ سکینرز بھی فراہم کر رہی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے مشتبہ افراد کی شناخت لمحوں میں کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اندرون لاہور کی سڑکیں چوڑی کرنے کے نام پر غریب عوام پر زندگی مزید تنگ کر دی گئی ہے،مونس الہیٰ
سکیورٹی کی نئی حکمت عملی
پاکستان کی خفیہ ایجنسی، خاص طور پر آئی ایس آئی، چین کی مدد سے مواصلاتی مداخلت کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے، جس میں موبائل کالز، واٹس ایپ پیغامات، اور سوشل میڈیا ٹریفک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان چینی طرز پر آن لائن نگرانی کا نظام اپنا رہا ہے تاکہ علیحدگی پسند مواد کو ہٹایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ناخن چبانے کی عادت کتنی خطرناک ہوسکتی ہے؟ ماہرین نے وارننگ دے دی
پاکستان اور چین کا تعاون
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو مکمل ڈیجیٹل کاؤنٹر انسرجنسی ٹولز فراہم کیے جا چکے ہیں، جو کہ دنیا کی سخت نگرانی والی ریاستوں سے متاثر ہیں۔ پاکستان نے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی ڈویژن قائم کیا ہے جو صرف چینی منصوبوں کے تحفظ پر مامور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جولائی 2025 : ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت پاکستان کرے گا
انسانی حقوق اور چین کی سفارتی حمایت
چین کی سفارتی حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان معاملات کو صاف ستھرا رکھنے میں مشکل ہو رہی ہے، خاص کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں۔ جب بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر ہوتا ہے، چین پاکستان کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے، اور ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہت جلد آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی: فیصل کریم کنڈی
خلاصہ اور نتائج
یہ درست ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی ہے، ٹیکنیکل نہیں۔ سی پیک کے ذریعے بلوچستان میں ترقی کے روشن امکانات ہیں، لیکن بلوچ علیحدگی پسند ان کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا وقفہ مکالمہ، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور بلوچ عوام کی سیاسی شراکت داری میں ہے۔
ویڈیو مواد








