مودی کی توسیع پسندانہ سوچ، علاقائی خودمختاری پر ایک اور حملہ… بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی، ڈرون حملے
بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی
لاہور (طیبہ بخاری سے) بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی، علاقائی خودمختاری پر ایک اور حملہ ہو گیا۔ بھارت نے میانمار کی خودمختاری کو بری طرح پامال کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کر ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: ملزم کی وہ غلطی جس کی وجہ سے وہ پکڑا گیا، ثنا یوسف قتل کیس میں اہم انکشاف
بھارتی وزیر اعظم کی توسیع پسندانہ سوچ
تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی توسیع پسندانہ سوچ میانمار تک جا پہنچی، ایک آزاد ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری کی گئی۔ انڈین میڈیا کے مطابق "13 جولائی کی صبح بھارتی افواج کی جانب سے یو ایل ایف اے (آئی) کے مبینہ کیمپس پر 150 اسرائیلی ساختہ ڈرون حملے کیے گئے۔"
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو چندہ دینے والے میٹا، ایپل، گوگل، ٹیسلا اور ایمازون کو 1800 ارب ڈالر کا نقصان
حملوں کی تفصیلات
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق "حملوں میں سگانگ ریجن جہاں یو ایل ایف اے (آئی) کا مشرقی کمانڈ ہیڈکوارٹرز قائم تھا، نشانہ بنایا گیا۔ یو ایل ایف اے کا اہم کمانڈر نین آسموم سمیت متعدد افراد ان حملوں میں ہلاک ہو گئے۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی ؛منٹورہ ہمالیہ پوائنٹ پر 5افراد سمندر میں ڈوب گئے،2جاں بحق
وزارت دفاع کا لاعلمی کا اظہار
ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع اس حملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے جو ایک بڑا تضاد ہے، میانمار پر ڈرونز حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت پر کی گئی جب بھارت میں "آپریشن سندور" کے نتائج پر تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت اپنی فوج کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو عسکری اداروں میں مایوسی کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ادارے کیوں بیمار ہیں، مریض ہسپتالوں میں جانے سے ڈرتا ہے، ڈاکٹر نہیں دیکھتے، رحم کا جذبہ نہیں ہے
جنوبی ایشیا میں بھارت کا علاقائی اجارہ دارانہ کردار
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ "میانمار پر حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں ایک علاقائی اجارہ دار کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے۔ بھارت پہلے ہی نیپال، پاکستان، چین، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھتا ہے۔ بھارتی جنگی جنون خطے کے امن اور ترقیاتی کوششوں میں رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔"
عالمی برادری کی ذمہ داری
میانمار پر یہ حملہ بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں، جارحانہ عزائم اور سیاسی تشہیر کے حربوں کا تسلسل ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کا فوری نوٹس لے۔ اگر بھارت کو اس طرز پر کارروائیاں کرنے سے نہ روکا گیا تو جنوبی ایشیا کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔








