شمالی کوریا کی یوکرین کیخلاف جنگ میں روس کو مکمل تعاون کی پیشکش
شمالی کوریا کی روس کو مکمل حمایت کی پیشکش
پیونگیانگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے ماسکو کو یوکرین کیخلاف جنگ میں مکمل طور پر تعاون کی پیشکش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امداد براہِ راست مستحق خاندانوں تک پہنچانے کی کاوش، کارگو کریو کی جانب سے کراچی میں 110 خاندانوں میں رمضان افطار راشن بیگز کی تقسیم
کیم جونگ اُن اور سرگئی لاوروف کی ملاقات
ڈان نیوز نے خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ پیونگیانگ کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ کِم جونگ اُن نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے ماسکو کو مکمل حمایت کی پیشکش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں؛ نعمان اعجاز بجلی کے بڑھتے نرخوں پر برہم
ماسکو اور پیونگیانگ کے تعلقات
سرگئی لاوروف کا دورہِ شمالی کوریا، ماسکو کے اعلیٰ حکام کے اُن متعدد اہم دوروں میں سے ایک ہے جو روس اور پیانگ یانگ کے درمیان فوجی اور سیاسی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، ایک ایسے وقت میں جب ماسکو، یوکرین کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت سے تعلق رکھنے والی ملعونہ خاتون سیاست دان نے قرآن پاک کی بے حرمتی کر دی
شمالی کوریا کی فوجی معاونت
رپورٹس کے مطابق، شمالی کوریا نے روسی علاقے کورسک سے یوکرینی فوجیوں کو نکالنے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے بلکہ ماسکو کو گولہ بارود اور میزائل بھی فراہم کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی
دوستانہ مذاکرات
ماسکو نے بتایا کہ لاوروف اور کم کے درمیان بات چیت گرم جوش اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ روسی وزارت خارجہ کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سر گیا لاوروف نے کورسک میں شمالی کوریا کے کردار اور روسی آپریشن کی حمایت پر پیانگ یانگ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے، ساتھ ہی دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کورین جزیرہ نما پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ذمہ داری مغربی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ بندی، پوپ کا بیان بھی آگیا
ویڈیو ملاقات اور کورین بحران
روسی وزرات خارجہ نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی ویڈیو بھی ٹیلیگرام پر جاری کی، جس میں دونوں رہنماؤں کو مصافحہ کرتے اور گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ ملاقات شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر ونسان میں ہوئی۔
کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے بتایا کہ کم جونگ اُن نے سرگئی لاوروف سے کہا ہے کہ پیانگ یانگ، یوکرینی بحران کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے روسی قیادت کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی غیر مشروط حمایت اور ماسکو کی حوصلہ افزائی کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سازشوں کی فضا میں گھرے ویرات اور روہت، آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میں ناکام، بھارت میچ ہار گیا
روس کی قیادت کی تعریف
شمالی کوریا کے سربراہ نے مزید کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ روسی فوج اور عوام اپنے ملک کی عزت اور بنیادی مفادات کے دفاع کی اس مقدس جدوجہد میں لازماً فتح یاب ہوں گے۔ کِم جونگ اُن نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی شاندار قیادت کی بھی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور کراچی میں بلوچستان ہاؤسز کے اخراجات اور آمدن کے حوالے سے چشم کشا تفصیلات سامنے آگئیں
مستقبل کے لیے روابط
روسی خبر رساں ادارے ٹاس نے رپورٹ کیا ہے کہ سرگئی لاوروف نے کم جونگ اُن کو بتایا کہ صدر پیوٹن مستقبل میں بھی براہ راست رابطے جاری رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں، رانا ثنا اللہ
پروازوں کا آغاز
سر گئی لاوروف کے حالیہ دورہِ شمالی کوریا سے قبل، روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان ہفتے میں 2 بار پروازیں شروع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن رفعت کیخلاف توہین عدالت درخواست خارج
شمالی کوریا کا سیاحتی مقام
روسی وزیرِ خارجہ نے شمالی کوریا کے ونسان شہر کو شاندار سیاحتی مقام قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ یہ نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ روسی سیاحوں میں بھی مقبول ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قونصل جنرل آف ٹرکیہ کی صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ سے اہم ملاقات،سیاسی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال
ناقابلِ تسخیر اتحاد
کے سی این اے نے 12 جون کو سرگئی لاوروف اور شمالی کوریا کی وزیر خارجہ چوئی سن ہوئی کے ونسان میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں جاری بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب ایک ’ناقابلِ تسخیر اتحاد‘ میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد پر فرد جرم عائد
یوکرینی تنازع میں تعاون
بیان میں مزید کہا گیا کہ روس نے شمالی کوریا کی ریاستی سلامتی کے دفاع کی جائز کوششوں میں مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ جواباً، شمالی کوریا نے بھی یوکرینی تنازع کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ماسکو کی تمام کارروائیوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی دعوے حقائق کے برعکس، عوامی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے، حافظ نعیم الرحمان
شمالی کوریائی فوجیوں کی تعداد
ٹاس نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ سرگئی لاوروگ نے یوکرین کیخلاف روسی کی مدد کے لیے تعینات شمالی کوریائی فوجیوں کا شکریہ ادا کیا گی۔
جنوبی کوریا کے مطابق، تقریباً 600 شمالی کوریائی فوجی روس کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں حقِ حکمرانی میں حصہ اور تمام زبانوں کا احترام چاہیے: محمود خان اچکزئی کا جامشورو میں جلسے سے خطاب
فوجی تعیناتیاں
شمالی کوریا نے پہلی بار اپریل میں تصدیق کی تھی کہ اس نے روس کی جنگ میں مدد کے لیے اپنے فوجی تعینات کیے ہیں، اور یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ اس کے کچھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کے تحت ملتان میں 79 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب
عزم کی تجدید
روسی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ طور پر ان عالمی طاقتوں کی بالادستی کی خواہشات کے خلاف مزاحمت کریں گے، جو شمال مشرقی ایشیا اور پورے ایشیا پیسفک خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔
ماضی کے معاہدے
یاد رہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے گزشتہ برس دورہِ پیانگ یانگ کے دوران دونوں ممالک نے فوجی معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شق ساتھ ملکر دفاع کی بھی تھی۔








