اچھی دوستی تھی؛ لکھوا لیا”یہ الیکشن امن و امان کی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا وقتی طور پر ملتوی کر دینا چاہیے“اس دور میں اے سی انتطامیہ کا سربراہ ہوتا تھا۔

مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 227
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا جنوری کیلئے ایل این جی کارگو برآمد نہ کرنے کا فیصلہ
چیئرمین یونین کونسل کی موت
اے سی رہنے کا حق نہیں؛ 92 میں چیئرمین یونین کونسل دھوریہ چوہدری یوسف قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ وائس چیئرمین چوہدری محمد آصف دھوریہ یونین کونسل کے بطور قائم مقام چیرمین فرائض انجام دینے لگے۔ (یہ دھوریہ کی معروف شخصیت چوہدری اسلم دھوریہ کے بھائی اور چوہدری نعیم اسلم کے چچا تھے۔)
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ
انتخابی صورتحال
اس یونین کونسل کا سیکرٹری غلام محمد بھلے مانس اور اپنے کام میں مہارت رکھتا تھا۔ مرنے والے چیئرمین کی خالی نشست پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونا تھا مگر مقامی ایم پی اے میاں طارق اس سیٹ پر الیکشن رکوانا چاہتے تھے کہ اُس کا حمایت یافتہ امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس، سرکاری گواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے جیل ٹرائل ٹل گیا
ڈی ایس پی کی مداخلت
اس مقصد کے لئے انہوں نے ڈی ایس پی (ڈپٹی سپرنٹندنٹ پولیس) کھاریاں فیاض لودھی سے لکھوا لیا؛ "یہ الیکشن امن و امان کی صورت حال پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا وقتی طور پر ملتوی کر دینا چاہیے۔" اس دور میں اے سی مقامی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا تھا اور پولیس بھی اسی انتظامی اکائی کے ماتحت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زمین سے باہر کسی سیارے میں زندگی کی موجودگی کے اب تک کے ٹھوس ترین شواہد دریافت
اے سی ڈاکٹر عامر کی کال
عل علی الصبح اے سی ڈاکٹر عامر کا مجھے فون آیا کہ ابھی گھر پر آؤ۔ میں چلا گیا۔ (اے سی ڈاکٹر عامر مجھ پر بڑا بھروسہ کرتے اور بہت سے مشورے مجھ سے ہی کیا کرتے تھے۔) ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تو ڈاکٹر نے کہا؛ "میاں طارق الیکشن ملتوی کروانا چاہ رہا ہے۔ تم اس بارے کیا کہتے ہو؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! ایسی کوئی بھی صورت حال نہیں کہ الیکشن ملتوی کیا جائے۔"
یہ بھی پڑھیں: یونان میں ایک اور کشتی کو حادثہ، لاشیں مل گئیں
میاں طارق کا دباؤ
ہماری بات ختم ہوئی تو فون پر اُن کے اپریٹر نے اطلاع دی؛ "سر! میاں طارق ملنے آئے ہیں۔" جب ہم دفتر پہنچے تو میاں طارق انتظار کر رہا تھا، چہرے پر پریشانی بھی تھی اور غصہ بھی۔
یہ بھی پڑھیں: طے ہو گیا پارلیمنٹ سپریم ہے، قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی شاندار مثال قائم ہوئی :وزیر اعظم
اے سی کا جواب
میاں طارق نے اے سی سے کہا؛ "دھوریہ والا الیکشن ملتوی کروا دیں صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔ لڑائی کا خطرہ ہے۔" اے سی کاغذ پڑھے بغیر اُن سے مخاطب ہوئے؛ "میاں صاحب! اگر ایسے پرامن ماحول میں ایک یونین کونسل کے ایک وارڈ کا الیکشن اے سی نہیں کروا سکتا تو کم از کم مجھے اے سی رہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔"
یہ بھی پڑھیں: ریلوے کا ڈی جی خان تا ملتان 16 اپریل سے شٹل ٹرین چلانے کا فیصلہ
کمشنر کی مداخلت
کمشنر سے بات کرنے پر، کمشنر نے ڈاکٹر صاحب کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا؛ "میاں صاحب! جاؤ تے الیکشن دی تیاری کرو۔" فون بند ہوا۔ میاں طارق غصے میں چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اپرکوہستان میں تیز رفتار بس کھائی میں جا گری، 2 افراد جاں بحق
الیکشن کی تیاری
ڈاکٹر صاحب مجھے سے کہنے لگے؛ "شہزاد! الیکشن سٹاف تگڑا لگانا۔ کوئی شکایت نہ آئے۔" میں نے جواب دیا؛ "سر فکر نہ کریں۔ انشا اللہ کوئی شکایت نہیں ملے گی۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔