پبلک سیکٹر کے ناکارہ جنریشن پلانٹس کی نیلامی کا منصوبہ شدید مشکلات کا شکار
پاور پلانٹس کی نیلامی کا منصوبہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت کا پبلک سیکٹر کے ناکارہ جنریشن پلانٹس کی نیلامی کا پرعزم منصوبہ شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (جی ایچ سی ایل) کے تحت آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کے اخراجات میں کمی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ حکام سکریپ کو وزارت دفاع کے ماتحت واہ انڈسٹریز کے حوالے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر جیت، ن لیگ کا سادہ اکثریت کے لیے پیپلزپارٹی پر انحصار ختم
نیلامی کے پہلے مرحلے کی ناکامی
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نیلامی کے پہلے مرحلے (جو بظاہر فروخت کے لحاظ سے کامیاب نظر آتا تھا) کے تقریباً 4 ماہ گزرنے کے باوجود کوئی مالی وصولی نہیں ہو سکی۔ انتظامیہ بائنڈنگ معاہدے حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور دوسرا مرحلہ اپنی مقررہ بولی کی تاریخ پر بھی شروع نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کہیں گے تو پورا بجٹ سکریپ کر دیں گے: مزمل اسلم
پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ بار بار کی ناکامیوں اور بعد کی نیلامیوں میں قابل اعتبار بولیوں کی عدم موجودگی سے تنگ آکر لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال کی سربراہی میں انرجی ٹاسک فورس نے رواں ماہ کے آغاز میں پالیسی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ ماہ کے اختتام تک تمام باقی پاور پلانٹس کو واہ انڈسٹریز کے حوالے کرنے کا حکومتی سطح پر معاہدہ (جی ٹو جی) کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ معطل اور پاکستان کا پانی بند کرنے کا معاملہ او آئی سی میں زیر بحث
حکومتی فیصلے کی تفصیلات
گزشتہ سال حکومت نے پرانے، فرسودہ اور ناکارہ سرکاری جینکو پاور پلانٹس کو بند کرنے اور ان کے پرانے مشینری و آلات (زمین کے علاوہ) کی نیلامی کھلی بین الاقوامی بولی کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ توانائی اصلاحات پر بنائی گئی ٹاسک فورس (جو نجی پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے الگ مذاکرات کر رہی تھی) نے جی ایچ سی ایل کی انتظامیہ کو نیلامی اور لین دین مکمل کرنے کے لیے 3 ماہ کی ڈیڈلائن دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں بیگم کا شوہر پر جسمانی تعلقات کے دوران جنسی تشدد کا الزام، خاتون زخمی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا
نیلامی کے نتائج
18 مارچ کو پہلے مرحلے میں 9 پرانے پاور پلانٹس کو کھلی نیلامی میں رکھا گیا، صرف 7 پلانٹس کے لیے اہل بولیاں موصول ہوئیں، جن کی مجموعی رقم 9 ارب 5 کروڑ روپے تھی، جب کہ ریزرو قیمت 8 ارب روپے 7 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ تاہم، کسی بھی بین الاقوامی بولی دہندہ نے اس عمل میں حصہ نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کو گھر کے دروازے پر پارسل موصول ، کھول کر دیکھا تو ایسی چیز نکل آئی کہ ہوش اڑ گئے
معاہدوں میں تاخیر
7 پلانٹس میں سے 6 کے ٹھیکے ایم/ایس درازہ بلڈرز کو دیے گئے، جب کہ 20 میگاواٹ ملتان کینٹ پلانٹ کا ٹھیکہ ایم/ایس ملک بشیر ٹریڈرز کو دیا گیا۔ 147 میگاواٹ کوٹری پاور پلانٹ پر جینکو-I (جے پی سی ایل) نے ایم/ایس درازہ کے ساتھ ایک ارب 88 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ایچ ون بی ورکر ویزا کی سالانہ فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دی
ادائیگیوں میں مسائل
ایم/ایس درازہ نے مطلوبہ 10 فیصد پرفارمنس گارنٹی تو جمع کرا دی، مگر اس کے بعد کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ حیرت انگیز طور پر جینکو-I کی اعلیٰ انتظامیہ نے نہ تو تاخیر کے نوٹس جاری کیے اور نہ ہی سود نافذ کیا، حالاں کہ معاہدے میں یہ واضح تھا۔
مستقبل کے چیلنجز
دوسری طرف، جینکو-IV (ایل پی جی سی ایل) نے مئی 2025 میں 2 ارب 13 کروڑ 30 لاکھ روپے کا معاہدہ ایم/ایس درازہ کے ساتھ لاکھڑا پاور پلانٹ کے لیے کیا، اگرچہ پہلی قسط بروقت ادا کی گئی، تاہم اس کی دوسری قسط 18 دن کی تاخیر سے جمع کرائی گئی۔








