سانحہ سوات کی تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامی، اعلیٰ سطح کی نااہلی، زمین پر قبضوں کا انکشاف
سوات میں سانحہ: ایک تکلیف دہ رپورٹ
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں تیرہ سیاحوں کے المناک ڈوبنے کے واقعے کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ تھی، ہر سیکنڈ، ہر لمحہ قیمتی تھا کیوں کہ شدید طغیانی کے دوران درجنوں سیاحوں کی زندگیاں ایک دھاگے سے بندھی ہوئی تھیں، وقت انتہائی محدود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، سلمان اکرم راجہ
سانحے کی تفصیلات
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سانحہ خوازہ خیلہ سوات کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ پیش آیا، وہ ایک ناقابلِ بیان سانحہ تھا، جب مرد، خواتین اور بچے بپھرے ہوئے پانیوں میں بہہ گئے، جب کہ دریا کے کنارے موجود لوگ بے بس تماشائی بنے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرگ کارٹل کے تربیتی کیمپ میں شوٹرز سے انسانی دل چبھوائے جانے کا انکشاف، ٹریننگ کیسے دی جاتی ہے؟ دل دہلا دینے والے انکشافات
کمیٹی کی رپورٹ کی اہم نکات
کمیٹی کی رپورٹ میں واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل بیان کی گئی ہے، جس میں سرکاری افسران، عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کے ساتھ ساتھ اس بحران کے دوران کیے گئے واٹس ایپ پیغامات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں احمد آباد ایئرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ گر کر تباہ
نظام کی ناکامی اور مجرمانہ غفلت
63 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں نظام کی ناکامی، اعلیٰ سطح کی نااہلی، غیر مؤثر کارکردگی، مجرمانہ غفلت، اور یہاں تک کہ زمین پر قبضے کے انکشافات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ 3 آئی فونز جن پر واٹس ایپ چلنا بند ہونے والا ہے
ریسکیو 1122 کی ذمہ داری
ریسکیو 1122 کو اس افسوسناک واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ضلعی ایمرجنسی افسر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، اور بغیر اجازت سٹیشن چھوڑ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اس نے خود مصیبت کو دعوت دی
غیر فنی بھرتیاں اور ناکافی وسائل
رپورٹ میں لکھا گیا کہ بھرتی کا عمل ناقص نظر آتا ہے، غیر فنی افراد کو مخصوص مہارتوں کے لیے تعینات کیا گیا، ایک ایسا فرد جو مبینہ طور پر پانی سے ڈرتا تھا، اسے غوطہ خور مقرر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ساری کہانی مومن صدر کو سناتے کہا وزیر اعظم بھٹو نے صرف انسانی ہمدردی میں یہ حکم جاری کیا تھا، میری آنکھیں نم اور آواز جذبات سے بھری تھی
تاخیر اور ناکافی تیاری
پانی میں بچاؤ کی گاڑی اور ایمبولینس بغیر غوطہ خور کے روانہ کر دی گئی، بعد میں جب حالات کی سنگینی کا احساس ہوا تو ایمبولینس ایک غوطہ خور کو لینے واپس گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مندر میں آگ پر چلنے کی رسم، لوگوں کا شدید رش، ڈھلوان سے ایک دوسرے کے اوپر گرنے لگے، بڑی تعداد میں ہلاکتیں
نقصان دہ عارضی بند
کمیٹی نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے فنڈ سے چلنے والے ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پروجیکٹ پر کام کرنے والے بڑے ٹھیکیدار کی سنگین غفلت کی بھی نشاندہی کی، جس نے حادثے کے مقام سے تقریباً 200 فٹ اوپر ایک عارضی بند تعمیر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 1. آپ کے سامنے لیڈر ہیں اور ان کا حشر بھی، باتوں کو شاید سنجیدگی سے نہیں لیا، تابع داری کی گزارشات رد ہو چکی تھیں، آدمی کو دوسرا موقع ملنا چاہیے تیسرا کبھی نہیں
زمین پر قبضے کے انکشافات
کمیٹی نے انکشاف کیا کہ زمین کے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور صفحات بدلے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات پنجاب کا لاہور پریس کلب کا دورہ، صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلیے پرعزم ہیں: عظمٰی بخاری
ضلعی انتظامیہ کی ناکامی
کمیٹی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے امدادی کارروائیوں کی شروعات یا ہم آہنگی کرنے میں مکمل ناکامی ظاہر کی، جب کہ پولیس سیاحوں کو بروقت دریا سے دور رکھنے میں ناکام رہی۔
خلاصہ اور سفارشات
کمیٹی نے متعدد سفارشات پیش کیں، جن میں معیاری اور قانونی فریم ورک متعارف کروانا، غیر قانونی تجاوزات پر قابو پانا، اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا خاتمہ شامل ہے۔








