واپڈا میں مستقل افسران کی غیر موجودگی، ادارہ انتظامی بحران اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا شکار

انتظامی بحران کا سامنا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ واپڈا اس وقت مستقل افسران کی غیر موجودگی کے باعث شدید انتظامی بحران کا شکار ہے، اہم عہدے نو ماہ سے خالی ہیں، جب کہ بڑے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہو چکے ہیں اور ادارہ صرف ’نگرانی‘ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیرپور میں 2 گروپوں میں تنازع، مخالف قبیلے نے شہری سے 15 لاکھ روپے لوٹ لئے

بڑھا ہوا بیوروکریٹک رکاوٹ

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، جو کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری اداروں میں سے ایک ہے اور جس کا مالیاتی حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، اس وقت اہم فیصلہ ساز افسران کی غیر موجودگی کے باعث سنگین بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لوئردیر میں خاتون کے ہاں بیک وقت 3 بچوں کی پیدائش، اہل خانہ خوشی سے نہال

خالی عہدے اور ان کا اثر

واپڈا کی گورننگ باڈی کے دو اہم عہدے گزشتہ نو ماہ سے خالی ہیں، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ انتظامی مفلوجی اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ واپڈا اس وقت ملک کی تاریخ کے تین بڑے بجلی منصوبوں دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم پر کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم نے جنرل سیدعاصم منیرکو ’’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘‘ سے نواز دیا

نظام برقرار رکھنے کی کوششیں

اس کے علاوہ، واپڈا عملی طور پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے آپریشنل نظام کو بھی سنبھالتا ہے، جو وفاقی اکائیوں کے درمیان پانی کی تقسیم اور زرعی نظام کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سربازار کی حقیقت: فاطمہ کی بہادری کا ناقابل فراموش لمحہ

قانونی تنازعات اور کمیٹیاں

تاہم، ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ارسا بھی اس وقت بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے قانونی تنازعات کا شکار ہے، جہاں سندھ سے مستقل رکن کی تقرری تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں اپوزیشن فورسز بشارالاسد کے سر پر آپہنچیں، دارالحکومت دمشق کو گھیرنا شروع کردیا

نگرانی کی صورت حال

واپڈا ایکٹ کے تحت، گورننگ باڈی میں تین مستقل ارکان پانی، بجلی اور مالیات اور ایک مستقل چیئرمین شامل ہوتا ہے، جو ہر سال سینکڑوں ارب روپے کے فنڈز کی نگرانی کرتا ہے۔ فی الحال، یہ باڈی پانی اور بجلی کے مستقل ارکان کے بغیر کام کر رہی ہے اور ان عہدوں کی ذمہ داریاں دو سینئر افسران، سید علی اختر شاہ (پانی) اور محمد عرفان (بجلی)، کو ’نگرانی‘ کے طور پر سونپی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جس چادر پر انڈا پھینکا گیا وہ 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی، علیمہ خان

نگرانی کی حدود

نگرانی کا مطلب:’نگرانی‘ کے عہدے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ افسر کسی قسم کے مالی یا انتظامی فیصلے نہیں کر سکتا بالکل عبوری حکومت کی طرز پر۔

یہ بھی پڑھیں: دھرنوں میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے: وزیراعظم

مستعفی اور اضافی چارج

جون میں جب سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے استعفیٰ دیا تو واحد مستقل رکن نوید اصغر چوہدری کو اضافی طور پر چیئرمین کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔ نوید اصغر چوہدری بنیادی طور پر مالیات کے رکن ہیں اور اس عہدے پر مستقل تقرری رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتہ) کا دن کیسا رہے گا؟

تنقید اور بھرتی کی صورتحال

واپڈا کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسانی وسائل کے مطابق یہ ایک انتظامی بدنظمی ہے، جس کی قومی سطح پر بھاری قیمت ادا کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت واپڈا اپنی کوئورم کی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہے، جو کسی بھی فیصلے کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے مزید 1000 خیمے اور ادویات بھیجنے کا اعلان

وزارت کی خاموشی

روزنامہ ڈان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو سے اس حوالے سے دو ہفتوں کے دوران متعدد بار رابطے کی کوشش کی، لیکن وزیر اور ان کے ترجمان نے واپڈا کی گورننگ باڈی کی تشکیل سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دورہ آسٹریلیا اور زمبابوے کےلئے سعود شکیل، شاداب خان اور افتخار احمد کو ڈراپ کیے جانے کا امکان

پیشگی اطلاعات اور اشتہار

ادھر، سابقہ ارکان کو زبانی ہدایت پر اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کو کہا گیا، جو 13 مارچ 2025 تک جاری رہا۔ بعد ازاں، وزارت کی جانب سے مدتِ ملازمت کی بابت استفسار کے بعد وہ مستعفی ہو گئے، اس کے بعد واپڈا نے دونوں خالی عہدوں کا ’نگرانی‘ چارج سینئر افسران کو دے دیا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے ذمے داری

وزارتِ آبی وسائل نے تاخیر کا الزام وزیراعظم آفس پر ڈال دیا، ایک وزارت کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افسران کی بھرتی کے لیے سلیکشن بورڈز تشکیل دے کر وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے، لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...