ماہا حسن کا بچپن میں ہراساں کیے جانے کا انکشاف
ماہا حسن کی ہراسانی کا تجربہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ابھرتی ہوئی اداکارہ ماہا حسن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بچپن میں ہراسانی کا شکار ہوئیں، جس کے اثرات نے ان کی شخصیت، سوچ اور ایمان کو گہرا متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل: مقدمے کی جلد سماعت کیلئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر
انٹرویو میں تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق حال ہی میں ماہا حسن نے یوٹیوب پروگرام ’سمتھنگ ہاٹ‘ کو انٹرویو دیا، جہاں انہوں نے کم عمری میں پیش آنے والے ہراسانی کے تجربے پر تفصیل سے بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تشدد کا شکار افراد کے تحفظ کا بل منظور کر لیا
بچپن کا واقعہ
اداکارہ نے بتایا کہ بچپن میں وہ ایک ایسے شخص کا نشانہ بنیں، جس نے ان کی کم سنی اور نادانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں نامناسب طریقے سے چھوا۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کرکٹ نے دورہ پاکستان جاری رکھنے کا اعلان کردیا
مشکل لمحات
ماہا حسن کے بقول انہیں اس وقت صحیح معنوں میں سمجھ ہی نہیں تھی کہ ان کے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے، اسی لیے وہ بار بار اُس شخص کو ’تھراپی کروا لو‘ کہتی رہیں، حالانکہ انہیں اُس سے فاصلہ اختیار کرکے فوراً قانونی کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر کے سکولوں میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی اور یوم تشکر منایا گیا، ننھے بچوں کی امن اور اپنے ہیروز کی سلامتی کے لیے دعائیں
غلط فہمیاں
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو سمجھایا جائے تو وہ سدھر جائے گا، مگر یہ ہماری غلط فہمی ہوتی ہے، جو لوگ ایسے اعمال کرتے ہیں، وہ موقع ملتے ہی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہ سرجری نہ کیمو تھراپی،چین سے کینسر کا جدید طریقہ علاج اورمشینری لانے پر اتفاق،اہم امور طے پا گئے
ذہنی سکون کی تلاش
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس واقعے نے نہ صرف ان کی ذہنی کیفیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا بلکہ ان کے ایمان اور اقدار کو بھی متزلزل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی شہری نے پاکستانی تاریخ کی سب سے زیادہ بولی دے کر مارخور کا شکار کر لیا
وقت کا اثر
اداکارہ نے بتایا کہ ایک طویل عرصے تک وہ اپنے مذہب، اپنی ذات اور اپنے وجود پر سوال اٹھاتی رہیں، تاہم تھراپی اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بتدریج سنبھلیں اور دوبارہ اپنے ایمان اور روحانی سکون کی طرف لوٹ آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کو سکول بھیجنے کی عمر 7 سال ہے، معروف اداکار جوڑنے نے بچوں کو کم عمر میں سکول بھیجنے کی مخالفت کردی۔
مضبوط ایمان
ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں نماز اور دین میں حقیقی سکون ملتا ہے اور ان کا ایمان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سیاست کے لیے اچھا نہیں: زرتاج گل
شوبز انڈسٹری میں ہراسانی
شوبز انڈسٹری کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ماہا حسن نے اعتراف کیا کہ یہاں بھی ہراسانی کے واقعات موجود ہیں۔
والدین کے لئے پیغام
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے رویوں کے خلاف سخت اقدامات، مؤثر نگرانی اور ذمہ داروں کا بلا تفریق احتساب ناگزیر ہے۔ آخر میں انہوں نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کے معاملے میں کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں، بیٹا ہو یا بیٹی، جس کے ساتھ بھی وہ وقت گزارتے ہیں اُن پر عقاب کی نگاہ رکھیں، کیونکہ اعتماد کا غلط استعمال کسی بھی وقت ممکن ہے۔








