لاہور؛66ہزار بل آنے پر ڈیڑھ ماہ سے شہری اہلخانہ سمیت بغیر بجلی زندگی گزارنے پر مجبور، ماں جی کی دل خراش گفتگو
لاہور میں بجلی کا بل اور شہری کی مشکلات
لاہور کے علاقے مصری شاہ میں ایک ماہ کا 66 ہزار روپے بل آنے پر شہری اہلخانہ سمیت بغیر بجلی گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یکم ستمبر تک پنجاب کے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ نہایت تشویشناک اور ناقابلِ فہم ہے، سابق وزیرتعلیم پنجاب مراد راس
معافین ماں کی فریاد
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں اس شدید گرمی میں بغیر بجلی گزارہ کرنے والی ماں جی نے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا تو دل کرتا ہے کہ رات کو میری جان نکل جائے، مگر میرے بیٹے کے پاس تو کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں، ایک ہی میرا بیٹا ہے، آپ کی مہربانی ہے کچھ کرو۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے لیے جانے والے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئیں
بیٹے کی زندگی کی مشکلات
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، کام کروں یا اپنے بچوں کو ہاتھ کے پنکھے سے ہوا دوں، یار میری پوزیشن دیکھ لیں، میرے تو حالات مرنے والے ہوگئے ہیں، خدا کی قسم میں نے صبح سے ناشتہ نہیں کیا، میرے گھر میں کیا ہے، میں کیا پکاؤں کیا لے کر آؤں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کسی کی ملکیت نہیں، یہ پاکستان ہے! جگہ جگہ ناکے لگا کر تم نے ثابت کر دیا کہ تم حق کی آواز سے کتنا ڈرتے ہو، جنید اکبر خان
کھانے کی کمی اور گزر بسر کی تنگی
ماں جی کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کسی نے صبح کا کچھ نہیں کھایا، اب یہ ٹائم آ گیا ہے، رپورٹر کا کہنا تھا اب شام کے 6 بجنے لگے ہیں، ماں جی نے روتے ہوئے کہاکہ ہاں جی! کیا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد بلوچستان میں بڑی دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب
بجلی کے بغیر رہن سہن
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ میری بھی بچیاں جوان ہیں، میں ان کا کروں، بڑوں کو دوں، کھانا پکاؤں، آپریٹ کراؤں، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، میں تو 2 ہزار، 25 سو روپے لے کر آتا ہوں وہ بچوں کو کھلا دیتا ہوں، پانچ سو، ہزار کی دوائی آ جاتی ہے، میری والدہ بوڑھی ہیں، جیسے میری نانی ہیں ویسی میری والدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو ان کے سسر جنرل ریٹائرڈ اعجاز امجد کی سفارش پر آرمی چیف بنایا گیا: خواجہ آصف
مشکلات کا سامنا
رپورٹر کا کہنا تھا کہ اگر آپ لوگوں کو میرا پسینہ نظر آ رہا ہو، میں حیران ہوں یہ لوگ کتنے عرصے سے ایسے رہ رہے ہیں، ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ، 2 ماہ سے ہم بجلی کے بغیر ایسے رہ رہے ہیں، رپورٹر نے سوال کیا کہ ماں جی پنکھے کے بغیر نیند آ جاتی ہے، ماں جی کا کہنا تھا کہ اتنی گرمی میں پنکھے کے بغیر کیسے نیند آ سکتی ہے، مگر ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے، ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے کر گزارہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں پرُتشدد مظاہرے چھٹے روز میں داخل، کئی صوبوں میں سکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند
بارش اور گلی میں بیٹھنا
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ جب کبھی بارش ہو جاتی ہے تو ہم لوگ باہر بیٹھ جاتے ہیں، ورنہ ہم تو مر جائیں گے۔ ماں جی کا کہنا تھا کہ کبھی گلی میں بیٹھ جاتے ہیں گزارہ ہی کرنا ہے، مجھے اتنی شرم آئی ابھی میں باہر بیٹھی تھی پھر اندر آ کر بیٹھ گئی، کوئی نہیں اللہ وارث ہے، جس نے پیدا کیا ہے وہ دیکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسے معاشرے کو تخلیق کرنا چاہتے ہیں جس میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ تقسیم کریں، دوسروں کے درد اپنے سینے میں محسوس کریں، سختیاں مل کر جھیلیں
بجلی کا بل اور مالی مسائل
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں اب کتنا بڑا بل ہے، 66 ہزار روپے، میں ہزار، 1500 کماتا ہوں، 66 ہزار روپے میں کہاں سے لے کر آؤں، لوگ ایسے ایسے کر رہے ہیں، روٹیاں پکا رہے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں، ابھی میں جاوں گا رات کو 9 بجے کھانا پکے گا، پھر بچے کھائیں گے، پھر میں اپنی بچی کی روزانہ 500 روپے کی دوائی لے کر آتا ہوں، آپریٹ کراؤں کہ دوائی کھلاؤں، ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ ٹائم دے دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ حکومت سپر مین اور سپر سپیڈ سے ونڈر بوائے پر آگئی ہے اور بہت جلد یہ ہوم الون پر چلے جائیں گے، بیرسٹر گوہر
گھر کی حالت
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ آپ دس منٹ میرے پاس کھڑے ہیں آپ کا کیا حال ہوگیا ہے، چھوٹا سا میرا گھر ہے شکر ہے اللہ کا میرا اپنا گھر ہے، اگر یہ بھی کرائے پر ہوتا میں تو مر گیا تھا، میں کرایہ نہیں دے سکتا، ابھی تین ماہ بعد میں نے باجی کی شادی کرنی ہے، میرے پاس پیسے نہیں ہیں، لڑکے والے بول رہے ہیں کہ دسویں مہینے شادی دو ہمیں، ہم ان کے آگے ہاتھ جوڑ رہے ہیں کہ ابھی ٹھہر جاؤ، وہ کہہ رہے ہیں کہ کرنا ہے تو کرو ورنہ چھوڑ دو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی ثالثی کو قبول نہیں کرتے: بھارتی وزیر خارجہ
حکومت سے اپیل
رپورٹر کا کہنا تھا کہ اگر اس گھر کا 66000 روپے بل آ رہا ہے میرے تو ہاتھ کھڑے ہیں، میری سمجھ سے باہر ہے اس گھر کا اتنا بل، میں حکومت پنجاب، وفاقی حکومت، اپوزیشن اور مخیر حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کے گھر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ کا پہلے بھی حصہ نہیں تھی، آئندہ بھی نہیں ہوگی: چیئرمین سینیٹ
شکیل کی شناخت
ماں جی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ہم مصری شاہ گلی نمبر ایک، مکان نمبر 3 میں رہتے ہیں، میرا نام شکیل ہے۔ شکیل کا کہنا تھا کہ میرا بھائی راجو کا بجلی کا بل 2 لاکھ روپے آیا ہے جس پر رپورٹر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کیا چلا رہے ہیں۔
راجو کا بجلی کا بل
راجو نے کہا کہ میرا ایک لاکھ 10 ہزار روپے بل آیا ہے، جبکہ بجلی 400 روپے کی جلی ہے، واپڈا نے ٹیکس اتنا ڈالا ہے، میرا گھر اس سے بھی چھوٹا ہے، میرے تین بچے ہیں۔
میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کیا لکھوں مجھے لائیک ویوز کا کریز بلکل نہیں آپ سب سے گزارش ہے یہ وڈیو اتنا شئیر کیجیے کہ ایوانوں کے در و دیوار ہل جائیں ???????????? pic.twitter.com/V4zy1ar1vn
— ???????????? ℂ???????????????????????????????? (@AliCh7777) July 13, 2025








