اداکارہ حمیرا اصغر نے موت سے قبل 7 جولائی کو 10 افراد کو پیغامات بھیجے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا : اقرار الحسن
اقرار الحسن کا انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف میزبان اقرار الحسن نے انکشاف کیا ہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر نے اپنی موت سے قبل 10 افراد کو پیغامات بھیجے تھے، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، ایشیاکپ 2025 کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا
پیغامات کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے بتایا کہ اداکارہ کے موبائل سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے دس افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اداکارہ نے 7 اکتوبر 2024 کو جن افراد کو پیغامات بھیجے، ان میں ان کے بھائی، سلمان، محسن، عمران، حسن اور دیگر شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی حکومت افغان زلزلہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور
پیغامات کا جواب نہ دینا
اداکارہ نے ان دس افراد کو پہلے ’ہیلو‘ کا پیغام بھیجا اور کچھ دیر بعد دوبارہ پیغام بھیجا کہ ’ہیلو، میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں‘ لیکن ان تمام افراد نے ان کے پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اقرار الحسن کے مطابق، ان افراد نے تین دن گزرنے کے باوجود بھی کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اداکارہ کا موبائل فون تین دن تک آن رہا، اس کے بعد بند ہو گیا، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کی موت 7 اکتوبر کے بعد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے جس کے اندر اختلاف رائے پایا جانا کوئی نئی بات نہیں:شبلی فراز
اداکارہ کے بھائی کا خاموش رہنا
ان کا کہنا تھا کہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ ان افراد میں اداکارہ کا بھائی بھی شامل تھا، جس نے بھی ان سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اقرار الحسن نے مزید بتایا کہ پولیس کی اب تک کی تحقیقات کے مطابق اداکارہ کے کمرے سے متصل غسل خانے میں سرف میں بھیگے ہوئے کپڑے موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سید عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی تردید، چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی وضاحت آگئی۔
تحقیقات کا آغاز
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کپڑے اتنے ماہ گزرنے کے بعد پھٹنے لگے تھے اور ان میں موجود پانی بھی خشک ہو چکا تھا۔ پولیس کا ابتدائی خیال ہے کہ شاید اداکارہ کپڑے دھونے کے لیے غسل خانے جا رہی تھیں اور اسی دوران پھسل کر منہ کے بل گریں اور ان کی موت واقع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اے اللہ، فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی بھوک، مصائب اور تکالیف کا خاتمہ فرما، خطبہ حج میں دعا
منشیات کے استعمال کی تصدیق
اقرار الحسن نے یہ بھی کہا کہ اب تک کی معلومات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اداکارہ منشیات استعمال نہیں کرتی تھیں۔ تاہم، ان کے کمرے سے سگریٹ کا ایک ڈبہ اور فلٹر ملا ہے جو غالباً ان کا نہیں تھا، کیونکہ اگر وہ سگریٹ نوش ہوتیں تو فلیٹ میں صرف ایک ڈبہ نہ ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: زینبیون اور تحریک طالبان: کیا بیرون ملک تربیت حاصل کرنے والے جنگجوؤں کا کرّم میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے کوئی تعلق ہے؟
دیگر افراد سے پیغامات
انہوں نے مزید کہا کہ 10 اکتوبر تک اداکارہ کو مختلف افراد کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، جن میں ان کے قریبی دوست اور عمارت کا چوکیدار شامل تھے، تاہم یہ وہ دس افراد نہیں تھے جنہیں اداکارہ نے خود پیغامات بھیجے تھے۔ اقرار الحسن کے مطابق، اداکارہ مکمل طور پر صحت مند تھیں، ان کے جم ٹرینر کے مطابق وہ روزانہ تین گھنٹے ورزش کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت قانون کی ججز ٹرانفر کیلئے سمری میں تضاد ہے، وکیل منیر اے ملک
پولیس کی تحقیقات
انہوں نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اداکارہ کی موت غیر طبعی تھی، چونکہ انہوں نے اپنے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ ایک ڈائری میں لکھ رکھے تھے، اس لیے پولیس نے باآسانی ان کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی وحدت کو قائم رکھنے والے آئین کی ڈیتھ ہو گئی ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون، صحافی صدیق جان
مقامی افراد سے تفتیش
بعدازاں پولیس اس کیس میں 63 افراد سے تفتیش کرے گی، جب کہ 5 افراد کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک بچے کی تلاش کیلئے چوتھے روز بھی آپریشن جاری
اداکارہ کی موت کی صورت حال
اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی۔ مکان مالک کی شکایت پر عدالت نے پولیس کو کرایہ ادا نہ کرنے پر فلیٹ خالی کرانے کا حکم دیا تھا، جس کے دوران اداکارہ کی لاش جو ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی برآمد کی گئی۔
موت کی ممکنہ وجہ
ابتدائی طور پر بتایا جا رہا تھا کہ لاش ایک ماہ پرانی ہے، لیکن بعد ازاں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ لاش 8 سے 10 ماہ پرانی ہے۔ اداکارہ کی موت کی ممکنہ وجہ جاننے کے لیے پولیس نے ایک تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی ہے، جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ موت طبعی تھی، قتل تھا یا خودکشی۔ اس کیس سے متعلق روزانہ نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔








