چاچا نے دراصل گالیاں کیوں نکالیں؟ منظرعام پر آگئے، خود ہی اصل وجہ بتا دی
چاچا کی گالیاں: اصل کہانی کا انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بارشوں کے دوران حکومت کو کوستے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چچا منظر عام پر آ گئے اور گالیاں نکالنے کی وجہ بتا دی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین جب تک واپس نہیں جاتے ہمارے مہمان ہیں: وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
خواہش کا اظہار: ہر پاکستانی کا حق
اپنے وکلا کے ہمراہ نجی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے چاچا کا کہنا تھا کہ میں نے کونسا جرم کیا تھا؟ اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے۔ میرا پاکستان مسائل میں ہے، اور میں نے بڑے صبر سے اس چیز کو اپروچ کیا۔ ریاست نے بھی ایک مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اسے نیگیٹو نہیں لیا۔ میرے اس لفظ سے ریاست نے مثبت لیتے ہوئے لوگوں کی تکلیفوں کو سمجھا ہو گا۔ ایک دکھی شخص بولتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخاب: ووٹنگ کا عمل جاری، بعض مقامات پر قطاریں اور کچھ جگہوں پر انتظار
ملک کی محبت: ہمارے اداروں کا احترام
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا ملک ہے، ہم مسلمان ہیں اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ ہمارے لیے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ادارہ قابل عزت و احترام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی رافیل چڑیوں کی طرح گر رہے تھے، پاکستان نے جس ہدف پر چاہا میزائل گرایا، مصدق ملک
وکلا کا بیان
ساتھ بیٹھے وکیل کا کہنا تھا کہ چاچا جی جب دو دفعہ پانی میں گرے تو انہوں نے یہ بات کہہ دی۔ اگر چاچا جی کو انہوں نے اپنے پاس رکھا ہے تو بہت اچھے ماحول کے ساتھ رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم ہمیں غلام بنانے کا حربہ ہے، بیرسٹر سلمان اکرم راجا
سوشل میڈیا پر وائرل: چاچا کا ردعمل
رپورٹر نے چاچا سے سوال کیا کہ لمحوں میں آپ کی ویڈیو وائرل ہوئی، اتنا شاید ہی کسی کو اتنا سوشل میڈیا پر دیکھا گیا ہو جتنا ویڈیو آپ کی وائرل ہوئی۔ آپ کے بارے میں خبریں گردش کرنے لگیں اور آپ جس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، وہاں سے نکال دیئے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
چاچا کا جواب
اس پر چاچا نے کہا کہ "نو کمنٹس"۔۔۔۔







