چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ، 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ
آئی ایم ایف کا چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ پر خدشات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چمن: انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید
قرض پروگرام پر اثرات
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ جیسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی وزیر خارجہ کا ایرانی اور اسرائیلی ہم منصب سے اہم ٹیلی فونک رابطہ
حکومت کا مؤقف
آئی ایم ایف کے تحفظات پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ چینی کی درآمد فوڈ ایمرجنسی کے تحت کی جا رہی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے حکومتی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی درآمد پر ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پراپرٹی کے بادشاہ کو پھانسی سے بچنے کے لیے نو ارب ڈالر کی قرض درکار
ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور
ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور شروع کردیا ہے اور چینی درآمد کا فیصلہ مکمل طور پر ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
چینی کی قیمتوں کا معاملہ
واضح رہے کہ ملک میں چینی کی قیمت تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے، حکومت نے چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز معاف کردی تھیں۔








