چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ، 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ
آئی ایم ایف کا چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ پر خدشات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ
قرض پروگرام پر اثرات
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ جیسے اقدامات سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر
حکومت کا مؤقف
آئی ایم ایف کے تحفظات پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ چینی کی درآمد فوڈ ایمرجنسی کے تحت کی جا رہی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے حکومتی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی درآمد پر ٹیکس چھوٹ آئی ایم ایف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جرنلسٹس فورم UAE کے جنرل سیکرٹری حافظ زاہد علی کے والد محترم کی روح کو ایصال ثواب کے لئے دعائیہ تقریب
ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور
ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کے تحفظات کے بعد حکومت نے چینی کی درآمد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے پر غور شروع کردیا ہے اور چینی درآمد کا فیصلہ مکمل طور پر ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
چینی کی قیمتوں کا معاملہ
واضح رہے کہ ملک میں چینی کی قیمت تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے، حکومت نے چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز معاف کردی تھیں۔








