علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو: بانی کے اہم پیغامات سامنے آگئے۔
اسلام آباد کی تازہ خبریں
چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اپنی دیگر دو بہنوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی کے تازہ پیغامات قوم کے سامنے رکھ دیے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خیبر پختونخوا کے عوام اپنی حکومت سے خوش ہیں؟ سروے رپورٹ میں حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں
بانی کے اہم پیغامات
انہوں نے بتایا کہ بانی نے آج دو اہم پیغامات دیے ہیں۔ بانی کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی اور اخبارات کو بند کر دیا گیا ہے، اور جیل میں ان کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ اور کرنل نے انسانی حقوق کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بانی نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس کا حساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب کچھ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا ردعمل بھی آگیا
اجلاس میں پارٹی اختلافات
علیمہ خان کے مطابق لاہور میں ہونے والے اجلاس سے متعلق بات کرتے ہوئے بانی نے کہا کہ پارٹی میں جان بوجھ کر اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی اختلافات ختم کریں اور سارا فوکس تحریک پر رکھیں۔ بانی تین سو پارلیمینٹیرینز کے لاہور جا کر مشاورت کرنے پر خوش ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حسان نیازی پتلون لہرانے کے کیس میں جیل ہے تو علیمہ خان کا بیٹا کس طرح آزاد گھوم رہا ہے، وہ بھی اسی ویڈیو میں تھا: شیر افضل مروت
پارٹی میں اتحاد کا پیغام
بانی نے وارننگ دی کہ جو پارٹی میں اختلاف پیدا کرے گا، اس کو وہ خود دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیلوں میں بیٹھے ہیں اور آپ لوگ اختلافات پیدا کر رہے ہیں۔ ہم یہاں دو سال سے جیل آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
خاندانی حمایت اور مطالبات
علیمہ خان نے کہا کہ ہماری فیملی پارٹی کے تمام فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بانی کے پیغامات پر مکمل عملدرآمد ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بانی کی رہائی کے لیے راستہ بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک مزید خطرے سے دوچار ہو گیا ؟ تفصیلات جانیے
جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ بانی کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کرے۔
فیصلہ پارلیمینٹیرینز کا
بہنوں کے مطابق بانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب فیصلہ پارلیمینٹیرینز نے کرنا ہے کہ وہ سیاست میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کس بات پر ہوں؟ صرف بانی کے کیسز سن لیں، بات ختم ہو جائے گی۔








