ایبٹ آباد دارالامان کے عملے نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے، مقامی عدالت کے باہر خاتون کا میڈیا کے سامنے بیان
ایبٹ آباد میں خاتون کی جانب سے الزامات
ایبٹ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرکاری شیلٹر ہوم ’دارالامان’ میں مقیم ایک خاتون نے عملے پر جنسی اور جسمانی تشدد کا الزام لگایا ہے۔ پولیس نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپین کا یورپی یونین سے اسرائیل پر اسلحے کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ
میڈیا میں ویڈیو کی گردش
ایبٹ آباد کی مقامی عدالت میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں خاتون قیدی الزام لگا رہی ہیں کہ "انہوں نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے اور میری آنکھوں میں مرچیں ڈالی ہیں"۔ ڈان نیوز کے مطابق ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) ایبٹ آباد عمر طفیل نے بتایا کہ انہوں نے خاتون کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کی جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے پی آئی اے کی خریداری کیلئے ہرحد تک جانے کا اعلان کردیا
انکوائری کی ہدایات
ڈی پی او نے کہا کہ انہوں نے ایس پی کنٹونمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ مکمل غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی جائے اور جلد از جلد رپورٹ پیش کی جائے۔ ڈی پی او کے مطابق اگر خاتون کے الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خاتون 2019 سے متعدد بار دارالامان جا چکی ہیں، تاہم، انکوائری کے بعد ہی حقائق واضح ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کی پلیئرز رینکنگ جاری، پاکستان کے اسپنر نعمان علی 2 درجہ بہتری کے بعد تیسری پوزیشن پر آگئے
خاتون کے پس منظر کی تفصیلات
ایبٹ آباد پولیس کے ترجمان اعظم میر افضل نے کہا کہ خاتون کو اس کے والدین کی جانب سے دارالامان بھیجا گیا تھا۔ دارالامان ایبٹ آباد کی انچارج رابعہ ذاکر نے میڈیا کو اپنے مؤقف میں بتایا کہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اب دارالامان میں مزید نہیں رہنا چاہتیں، تاہم انہوں نے اپنے الزامات پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1600 روپے کا اضافہ
انچارج کا بیان
دارالامان کی انچارج کے مطابق مشورہ دیا گیا تھا کہ خاتون کا مجرمانہ ذہن ہے اور وہ خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرتی ہیں اور دیگر لڑکیوں کے ساتھ نامناسب رویہ رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے دارالامان کی دیگر لڑکیاں ان سے خوفزدہ ہیں۔ رابعہ ذاکر نے کہا کہ تمام حقائق عدالت میں پیش کر دیے گئے تھے۔
عدالت کا فیصلہ
انچارج رابعہ ذاکر نے کہا کہ اگر ان پر الزام ثابت ہوا تو وہ سزا قبول کریں گی، تاہم انہوں نے خاتون کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔








