چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو
چینی وزیرخارجہ کی پاکستان کے نائب وزیراعظم سے بات چیت
میڈرڈ (شِنہوا) چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
کشمیر میں حالیہ کشیدگی
اسحاق ڈار نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ یی کو کشمیر علاقے میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میٹرو بس میں خواتین مسافروں کے کانوں سے بالیاں نوچنے والی 2 برقعہ پوش خواتین گرفتار
پاکستان کا عزم
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مستقل اور مضبوطی سے جنگ لڑی ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کا مخالف ہے جو صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے۔ پاکستان صورتحال سے پختہ انداز میں نمٹنے کے لئے پرعزم ہے اور وہ چین اور عالمی برادری کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا:آرمی چیف کی زیرِ صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ
چین کی حمایت
اس موقع پر وانگ یی نے کہا کہ چین اس پیشرفت پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں چین کے مستقل تعاون کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے دیرینہ ساتھی چودھری اسلم سلیمی کا انتقال
سیکیورٹی خدشات کا خیال
وانگ نے کہا کہ ایک آہنی دوست اور ہر قسم کے حالات میں تزویراتی معاون شراکت کے طور پر، چین پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چار شادیوں کے حق میں نہیں ہوں مگر اس میں زیادہ قصور عورتوں کا ہے: یاسر حسین
تنازعات کا حل
انہوں نے کہا کہ چین فوری اور شفاف تحقیقات کی وکالت کرتا ہے اور اس کی رائے میں تنازع نہ تو بھارت یا پاکستان کے بنیادی مفادات کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس سے علاقائی امن و استحکام کو کوئی فائدہ ہوگا۔
کشیدگی کم کرنے کی جانب کوششیں
انہوں نے مزید کہا کہ چین پرامید ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف بڑھیں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔








