چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو
چینی وزیرخارجہ کی پاکستان کے نائب وزیراعظم سے بات چیت
میڈرڈ (شِنہوا) چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور بھارت کے سفارتی تعلقات میں ’’نیا موڑ‘‘، ڈھاکہ نے بڑا قدم اٹھا لیا
کشمیر میں حالیہ کشیدگی
اسحاق ڈار نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ یی کو کشمیر علاقے میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پورے ہفتے میں صرف 16 گھنٹے کام کر کے بچوں کے ساتھ سال میں کئی چھٹیاں گزارنے والی خاتون، یہ سب کیسے کرتی ہے؟
پاکستان کا عزم
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مستقل اور مضبوطی سے جنگ لڑی ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کا مخالف ہے جو صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے۔ پاکستان صورتحال سے پختہ انداز میں نمٹنے کے لئے پرعزم ہے اور وہ چین اور عالمی برادری کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ
چین کی حمایت
اس موقع پر وانگ یی نے کہا کہ چین اس پیشرفت پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں چین کے مستقل تعاون کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر ایڈوائزر انوشہ رحمان سے امریکی قونصل جنرل سٹیٹسن سینڈ رس کی وفد کے ہمراہ ملاقات
سیکیورٹی خدشات کا خیال
وانگ نے کہا کہ ایک آہنی دوست اور ہر قسم کے حالات میں تزویراتی معاون شراکت کے طور پر، چین پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ
تنازعات کا حل
انہوں نے کہا کہ چین فوری اور شفاف تحقیقات کی وکالت کرتا ہے اور اس کی رائے میں تنازع نہ تو بھارت یا پاکستان کے بنیادی مفادات کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس سے علاقائی امن و استحکام کو کوئی فائدہ ہوگا۔
کشیدگی کم کرنے کی جانب کوششیں
انہوں نے مزید کہا کہ چین پرامید ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف بڑھیں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔








