لاہور چڑیا گھر کا انتظام دوبارہ محکمے نے خود سنبھال لیا
لاہور چڑیا گھر کا ٹھیکہ چھوڑنے کی اطلاعات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چڑیا گھر کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی نجی کمپنی نے ٹھیکہ چھوڑ دیا ہے۔ انٹری ٹکٹ، پارکنگ سمیت دیگر سہولتوں کا انتظام دوبارہ چڑیا گھر انتظامیہ نے سنبھال لیا ہے۔ نجی کمپنی نے یکم جنوری 2025 کو چڑیا گھر کا ٹھیکہ 50 کروڑ روپے میں حاصل کیا تھا۔ تاہم، کمپنی نے 6 ماہ 16 دن کے بعد ٹھیکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کس طرح ’فوجی سفارت کاری‘ کے ذریعے خطے میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کر رہا ہے؟
نجی کمپنی کی طرف سے مالی واجبات
نجی کمپنی ممکنہ طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد رقم لاہور چڑیا گھر کا ٹھیکہ کی مد میں ادا کرے گی، جبکہ بجلی کے بلوں سمیت دیگر واجبات بھی ادا کرے گی۔ لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ چڑیا گھر کا انتظام اب انہوں نے خود سنبھال لیا ہے۔ حکام کے مطابق، نجی کمپنی نے کیپٹووائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی (سی ڈبلیوایم سی) سے ٹکٹوں کے ریٹس بڑھانے اور انٹری ٹکٹ کے ساتھ کسی دوسری سہولت کا ٹکٹ لازمی دینے کی درخواست کی تھی، جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا۔ کمیٹی نے موقف اختیار کیا کہ تفریح کے لیے آنے والوں پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کے ذریعے 244 ارب بٹورنے کا انکشاف
وزیر اعلی کا وژن
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا ویژن ہے کہ شہریوں کو سستی اور معیاری تفریحی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نومبر ختم ہونے سے پہلے 27 ویں آئینی ترمیم پاس ہو جائے گی، فیصل واوڈا
نجی کمپنی کی پالیسی میں تبدیلی
واضح رہے کہ نجی کمپنی نے ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد انٹری ٹکٹ کے ساتھ ہالوورس، ریپٹائلز ہاؤس، فش ایکوریم کی ٹکٹ کے پیکج متعارف کروائے تھے۔ تاہم، تفریح کے لئے آنے والوں کو انٹری ٹکٹ کے ساتھ زبردستی کسی ایک سہولت کا ٹکٹ دیا جاتا تھا۔ اس پر سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات پنجاب مدثر ریاض ملک نے نوٹس لیتے ہوئے یہ سلسلہ بند کروادیا تھا۔
اجلاس اور مستقبل کی منصوبہ بندی
نجی کمپنی نے مزید مالی خسارے سے بچنے کے لئے لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ کو ٹھیکہ چھوڑنے کی درخواست دی تھی، اور یہ یقین دلایا تھا کہ وہ تمام واجبات ادا کرے گی۔ جمعرات کے روز چڑیا گھر کی انتظامیہ نے انتظام خود سنبھال لیا جبکہ اسی دن سی ڈبلیوایم سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا جس میں چڑیا گھر کی موجودہ صورتحال پر بحث کی گئی۔








