پرندے فروش نوجوان کو صحافی اسد علی طور کو نایاب طوطا فروخت کرنا مہنگا پڑ گیا، ایف آئی اے نے اکاونٹ ہی منجمد کر دیا

ایف آئی اے کے اقدامات

اسلام آباد، پاکستان( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی اسد علی طور کو نایاب نسل کا طوطا فروخت کرنا ایک نوجوان پرندہ فروش کو نہایت مہنگا پڑ گیا۔ ایف آئی اے نے صحافی کے ساتھ مالی لین دین کے سبب اس کا اکاونٹ منجمد کر دیا اور ساتھ ہی اسے ایجنسی کے سخت سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی عملے کی مبینہ غفلت کا معاملہ، 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

پرندہ فروش کی کہانی

الجزیرہ انگلش کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ پرندے فروش روزی خان اپریل میں کاروباری سلسلے میں اسلام آباد آئے اور انہوں نے اس دوران اسد علی طور کو ایک طوطا فروخت کیا۔ اس کی رقم بینک اکاونٹ میں وصول کی گئی، تاہم جب روزی نے بینک اکاونٹ سے رقم نکالنے کی کوشش کی تو سکرین پر پیغام آیا کہ "آپ کا بینک اکاونٹ غلط ہے"۔

یہ بھی پڑھیں: مالم جبہ کیس: رکن قومی اسمبلی عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل

بینک کی معلومات

یہ پیغام دیکھ کر روزی خان شدید پریشان ہوا اور فوری طور پر فلائٹ لے کر کراچی پہنچا۔ وہاں وہ سیدھا بینک گیا اور بینک مینجر نے انہیں بتایا کہ ان کا دس سال پرانا کاروباری اکاؤنٹ 10 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکم پر بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وضاحت کے بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خوش قسمت ترین تارکِ وطن، دبئی میں آدمی نے دوسری بار ایک ملین ڈالر ڈیوٹی فری لاٹری جیت لی

ایف آئی اے کا سوال

الجزیرہ سے گفتگو میں روزی خان نے بتایا کہ بینک منیجر نے انہیں ایف آئی اہلکار کا نمبر دیا جس پر کال کی تو اہلکار نے پوچھا کہ "آپ کا صحافی اسد علی طور سے کیا تعلق ہے؟" خان نے کہا کہ مجھے شروع میں سوال کی سمجھ ہی نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف زبان مزید سخت کر لی، بھارتی معیشت کو مردہ قرار دے دیا

پرندہ فروشوں کی مشکلات

یہی سوال راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا اور دیگر شہروں میں بھی کئی لوگوں کے ذہنوں میں گونج رہا ہے، خاص طور پر ان پرندہ فروشوں کے، جنہوں نے اسد علی طور کے ساتھ لین دین کیا اور بعد میں ان کے بینک اکاؤنٹس معطل کر دیئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: راول ڈیم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان کے قریب پہنچنے پر سپل وے کھول دیئے گئے

مزید مثالیں

لاہور کے 60 سالہ پرندے فروش ندیم ناصر بھی انہی میں شامل ہیں، جنہوں نے طور کو ماضی میں پرندے فروخت کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 اپریل کو ایک چیک باؤنز ہونے پر انہیں علم ہوا کہ ان کا اکاؤنٹ بھی بند ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کاش ہم قید ہی کر لیتے وہ جاتا لمحہ۔۔۔

اسد علی طور کا پس منظر

۴۰ سالہ اسد علی طور صحافی اور وی لاگر ہیں جو اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اپنے یوٹیوب چینل پر حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقیدی تبصرے کرتے ہیں۔ وہ نایاب طوطوں کے شوقین ہیں اور ہر ماہ 50,000 روپے سے زائد خرچ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

کسٹڈی کیس

انہوں نے بتایاکہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب میرے کزن نے بتایا کہ ان کا اکاؤنٹ میرے ساتھ لین دین کی وجہ سے منجمد ہو گیا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ میرے اور خاندان کے اکاؤنٹس بھی بغیر اطلاع کے بند کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یقین نہیں آرہا یہ پاکستانی ٹیم کھیل رہی ہے آسٹریلیا کے خلاف شاندار فتح

عدالتی فیصلہ

رپورٹ کے مطابق اسد طور نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو اکاؤنٹ بحال کرنے کا حکم دیا۔ تاہم، طور کے اہلخانہ کے اکاؤنٹس اب بھی بند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سموگ اور ہمارے جینے کے انداز

پرندہ فروشوں کی شکایات

دوسری جانب روزی خان اور ندیم ناصر نے بھی اسلام آباد کی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ناصر نے دو ماہ بعد اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی، جبکہ روزی خان اب بھی اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

حکومت کی پالیسی پر سوالات

انہوں نے کہا کہ کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور گاہک اکثر سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنا ذاتی اکاؤنٹ کیوں نہیں دے سکتے۔ حکومت کہتی ہے کہ کیش لیس ہو جائیں اور پھر اکاؤنٹ بغیر وجہ کے بند کر دیتی ہے۔ میں اپنے گاہکوں کو کیا بتاؤں؟

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...