سندھ طاس معاہدہ معطل اور پاکستان کا پانی بند کرنے کا معاملہ او آئی سی میں زیر بحث
بھارت کی دھمکیاں عالمی فورم پر اٹھائی گئیں
جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیوں کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آیا ہے۔ او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کی ہٹ دھرمی پر سخت موقف اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 35 سال سے بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون کو ملک بدری کا حکم
او آئی سی کے اجلاس میں معاملہ زیر بحث
جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کے 25ویں اجلاس میں پاکستان نے بھارتی دھمکیوں کا معاملہ اٹھایا۔ اجلاس کا موضوع "پانی کے حق" پر مبنی تھا، جس میں مختلف مندوبین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: موریطانیہ کے ساحل کے قریب تارکین وطن سے بھری کشتی ڈوب گئی، 49 افراد ہلاک، 100 لاپتہ
پاکستان کا مؤقف
او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب سید فواد شیر نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور اس کے پاکستان پر اثرات پر بھرپور انداز میں بات چیت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کا حق قانونی، اخلاقی، اور سماجی بنیادوں پر اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 40 ارب کا میگا سکینڈل، پی ٹی آئی کی 2 سیاسی شخصیات کو بڑی ٹرانزیکشنز
پانی کی قلت اور بھارتی ہٹ دھرمی
سید فواد شیر نے نشاندہی کی کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے، اور بھارتی ہٹ دھرمی اس صورتحال کو مزید خراب بنا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ پہلے بھی بھارت کے اس طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
عالمی سطح پر حمایت
فواد شیر کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی سندھ طاس معاہدے کے تسلسل اور عملدرآمد کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔








