پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوگیا
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس میں چلا گیا۔ وزیر اعظم شہbaz شریف نے اس خبر پر اظہار تشکر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی بگاڑ سنگین خطرہ، آزاد کشمیر میں فطرت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ
سرپلس کی تفصیلات
سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے مالی سال 20101 میں کرنٹ اکاؤنٹ 21 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس میں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے رکن ویلیج ڈیفنس کمیٹی کو شہدا پیکیج کے تحت ادائیگی نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج کردی
ماضی کا مقابلہ
جون 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سرپلس میں رہا، جبکہ جون 2024 میں یہی اکاؤنٹ 50 کروڑ ڈالر خسارے میں تھا۔ مالی سال 2023-24 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر تھا، جو اب ختم ہو کر سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے.
یہ بھی پڑھیں: یواین ڈی پی کی شراکت: قطر اور سعودیہ کا شام کیلئے 8 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز امداد کا اعلان
وزیرِاعظم کا مؤقف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس ہونے پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت زرِمبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ معاشی و مالیاتی اشاریے روز بروز بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے استحکام کا ثبوت ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے بہتر اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار دوست ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔








