پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور قتل کے مقدمے کی تفتیش کون کرے گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کردیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (کورٹ رپورٹر سے) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے پولیس کی زیر حراست ملزم پر تشدد یا جاں بحق ہونے کا مقدمہ ٹرائل شروع ہونے سے قبل ایف آئی اے کو ٹرانسفر کرنے پر پولیس کی درج کی گئی ایف آئی آر کینسل کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 302 این جی اوز کی ریلیف سرگرمیاں جاری
قانونی نکتہ
جسٹس طارق سلیم شیخ نے نیا قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت نے کسٹوڈیل اینڈ ڈیتھ ٹارچر ایکٹ کے حوالے سے آگاہی اور سرکاری اہلکاروں کی ٹریننگ کے اقدامات نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل، مچل اسٹارک کا بھارت واپس جانے سے انکار
تشدد کا مقدمہ
پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور قتل کے مقدمے کی تفتیش کون کرے گا؟ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے قانونی نکتہ طے کر لیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کانسٹیبل محمد آفتاب کی درخواست ضمانت پر 29 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھینس چوری کی کوشش ناکام ، گاؤں میں بھینس چور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک
تفتیشی سوالات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے زیر حراست ملزم پر تشدد کے مقدمے میں گرفتار پولیس اہلکار کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ عدالت کے سامنے اس کیس میں 3 بنیادی سوالات تھے:
- ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ایکٹ 2022 کے کون سے جرائم کی تفتیش ہوسکتی ہے؟
- ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ کی موجودگی میں زیر حراست ڈیتھ کا مقدمہ اگر پی پی سی کے قوانین کے تحت پولیس درج کرے تو ایف آئی اے کو ٹرانسفر کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟
- اگر تفتیش ایف آئی اے کو منتقل ہو جاتی ہے تو پھر پولیس نے جو تفتیش کی تھی اس کا کیا ہوگا؟
عدالت کی کارروائی
انتہائی اہم سوالات کے باعث عدالت نے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو طلب کیا جبکہ بیرسٹر حیدر رسول مرزا اور قرۃ العین افضل ایڈووکیٹ کو عدالتی معاون مقرر کیا۔








