ہری پور میں 5 سالہ نابینا بچے سے ’زیادتی‘ کے الزام میں قاری گرفتار
ہری پور میں نابینا بچے سے زیادتی کا واقعہ
ہری پور(ویب ڈیسک) تھانہ صدر ہری پوری پولیس نے ایک 5 سالہ نابینا بچے سے زیادتی کے الزام میں مدرسے کے قاری کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی پرواز میں تاخیر: ارشد ندیم سمیت پاکستان جیولین تھرو ٹیم ایئرپورٹ پر پھنس گئی
پولیس کی کارروائی
ڈان نیوز کے مطابق، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہری پور فرحان نے بتایاکہ اس دلخراش واقعے کی رپورٹ درج کرائے جانے کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانے کی پولیس ٹیم کو فعال طور پر متحرک کیا تھا جنہوں نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پریس کلب میں 3روزہ کتاب میلے کا آغاز کل ہو گا ، بک رائٹرز کلب کی شہریوں کو شرکت کی دعوت
مقدمے کی تفصیلات
متاثرہ بچے کے چچا کی مدعیت میں صدر پولیس اسٹیشن میں 10 جولائی کو ملزم نور جلیل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس میں درخواست گزار نے موقف اپنایاکہ اس کے بھتیجے نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے مسجد کے اس کمرے میں قاری نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جہاں وہ قرآن پاک پڑھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے پاکستان کے لئے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں: آرمی چیف
قانونی کارروائی
شکایت کنندہ نے کہا کہ متاثرہ بچہ بصارت سے محروم اور صرف پانچ سال کا ہے، اور ملزم نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لہذا، وہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی چاہتے ہیں۔
تحقیقات کا آغاز
اندراج مقدمہ کے مطابق، پولیس نے ملزم نور جلیل ولد محمد انصار، ساکن پلاس کوہستان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔








