کوئٹہ میں خاتون اور مرد کے قتل کا واقعہ، جوڈیشل مجسٹریٹ کا خاتون کی قبرکشائی کا حکم
قتل کی تحقیقات شروع
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جوڈیشل مجسٹریٹ نے پسند کی شادی کرنے پر قتل ہونے والی خاتون کی قبر کشائی کا حکم دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مختلف علاقوں میں نرخ الگ الگ
مقدمے کی سماعت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ اخترشاہ کی عدالت میں تفتیشی افسر کی سنجیدی ڈیگاری میں پسند کی شادی کرنے پر خاتون اور مرد کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے جرگے کے حکم پر مقتولہ خاتون کی قبرکشائی کا حکم دیدیا، جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈیکاری میں مقتول خاتون کی قبرکشائی کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات
پولیس کی کاروائی
پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او نوید اختر تھانہ ہنہ اوڑک مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ مدعی نے تھانہ میں تحریری درخواست دی کہ ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون اور مرد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی کا 3 سال سے مستفید ہونیوالے افراد کا ازسر نو سروے کرانے کا فیصلہ
واقعے کی تفصیلات
متن کے مطابق پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ سنجیدی ڈیگاری مارگٹ پہنچی، معلومات کرنے پر علم ہوا کہ واقعہ عیدالاضحی سے تین روز قبل کا ہے، جس میں بانو بی بی اور احسان اللہ کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوسرا بحری جہاز بھی ڈبو دیا، عملے کے 4 ارکان ہلاک
سماجی خوف و ہراس
مدعی مقدمہ نے کہا کہ واقعے کے دوران ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپ لوڈ کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔ فائرنگ کرنے والوں میں شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان شامل ہیں۔ سردار شیر باز خان نے فیصلہ سنایا کہ خاتون اور مرد کار و کاری کے مرتکب ہوئے ہیں، انہیں قتل کردیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا قصور کے سیلابی علاقوں کا دورہ، متاثرین سے ملاقاتیں
ملزمان کی تعداد
معاملے میں جان محمد، بشیر احمد، اور دیگر 15 نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔ فیصلے کے بعد مرد اور خاتون کو گاڑیوں میں لیکر سنجیدی ڈیگاری مارگٹ لاکر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
چیف جسٹس کا نوٹس
دوسری جانب چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈیگاری میں مرد اور خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو 22 جولائی کو طلب کرلیا۔








