پاک، بھارت جنگ بندی سیاسی قیادت کی دانشمندی کا نتیجہ تھی، اصل فیصلے کہاں ہوئے۔۔۔؟ خورشید محمود قصوری کھل کر بول پڑے

پاک-بھارت جنگ بندی: دانشمندانہ فیصلہ

نئی دہلی / لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) - سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے واضح کیا کہ پاک-بھارت جنگ بندی ایک سیاسی قیادت کی دانشمندی کا نتیجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نارنگ منڈی میں بچوں نے اپنے سگے باپ پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

جنگ بندی کی وجوہات

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بیان دیا کہ مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کسی بھی فوجی کمانڈر یا بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوئی، بلکہ یہ دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی دور بینی کا نتیجہ تھی۔

انہوں نے یہ خیالات نئی دہلی میں "سینٹر فار پیس اینڈ پراگریس" کے سیمینار میں ورچوئل خطاب کے دوران پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: قیمتی لباس کے بجائے سونا خریدیں، اداکارہ لائبہ خان کا دلہنوں کو قیمتی مشورہ

اصل فیصلے کہاں ہوئے؟

قصوری نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے فیصلے کا اعلان ڈی جی ایم اوز کی سطح پر ہوا، لیکن یہ صرف ایک علامتی اقدام تھا۔ اصل فیصلے دونوں حکومتوں کی اعلیٰ سطحی قیادت کی جانب سے کیے گئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی صرف عسکری ضرورت نہیں تھی، بلکہ یہ اعلیٰ سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: دہرے ٹیکس معاہدوں کی متوازن تشریح کی جائے: سپریم کورٹ

امریکی مداخلت کا جائزہ

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ ان کی ثالثی سے کشیدگی کم ہوئی، قصوری نے کہا کہ "یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے پاک-بھارت کشیدگی میں مداخلت کی ہو۔" انہوں نے ماضی کی کئی دیگر امریکی مداخلتوں کا حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ نے سرکاری ملازمین کی غیرملکی سے شادی کیخلاف درخواست 20ہزار جرمانے کیساتھ خارج کردی

بیک چینل ڈپلومیسی کی اہمیت

خورشید قصوری نے بیک چینل مذاکرات کی وکالت کی اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ دوبارہ بات چیت کا آغاز کریں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرز یا دیگر قابلِ اعتماد شخصیات کے ذریعے غیرعلانیہ مذاکرات شروع کیے جائیں تو جنگ کے خدشات کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں غیرت کے نام پر لڑکی کا قتل، سابق وائس چیئرمین، مدعی مقدمہ سمیت 4ملزم گرفتار

پائیدار امن کی ضرورت

اپنے خطاب میں، قصوری نے خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر حالیہ حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں. انہوں نے کہا کہ بات چیت اور سفارتکاری ہی جنوبی ایشیاء میں امن قائم کرنے کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحہ، صدر مملکت کا اظہار افسوس، سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اہم ہدایات جاری

عوامی بیانیے کی تبدیلی

قصوری نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ وہ عوامی بیانیے کو تبدیل کریں اور امن کی جانب قدم بڑھائیں۔

خلاصہ

سیمینار کے دوران، انہوں نے یہ بات دہرائی کہ جنگ کے کنارے سے واپس آنا ہی حکمت کا ثبوت ہے اور اب دونوں ممالک کو بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...